تربیتِ شعور
Urdu book, p. 90
By Maulana Wahiduddin Khan
تربیتِ شعور مسٹر خالد جمال ملاقات کے لیے آئے ۔ وہ حیدر آباد میں رہتے ہیں ۔ اس وقت وہ ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں کارپوریٹ کمیونی کیشنز کے منیجر ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ میری ابتدائی تعلیم کلکتہ کے ایک اردو اسکول میں ہوئی ۔ میرے باپ بھی معمولی حیثیت کے آدمی تھے ۔ بظاہر میرے لیے کسی بڑی ترقی کے مواقع نہیں تھے ۔ مگر میں اپنی طالب علمی کے زمانہ سے ہی الرسالہ پڑھتا تھا۔ اس سے میرے اندر ایک نئی سوچ اور نئی ہمت پیدا ہو رہی تھی ۔ پھر میں نے الرسالہ میں ایک مضمون پڑھا، جس میں بتایا گیا تھا کہ یہ ایچ آف کمیونی کیشن ہے ۔ اس کو پڑھ کر میرے اندر یہ عزم جاگا کہ مجھے کمیونی کیشن کا کورس کرنا چاہیے ۔ چنانچہ اردو اسکول سے فراغت کے بعد میں نے کمیونی کیشن کی اسٹڈی شروع کردی ۔ یہاں تک کہ آج میں ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں کمیونی کیشن کے شعبہ کا منیجر ہوں ۔ اکثر لوگ اردو اسکول اور عربی مدرسہ کے خلاف لکھتے اور بولتے رہتے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ قوم کو ناکارہ بناتا ہے ۔ مگر مذکورہ مثال بتاتی ہے کہ یہ رائے درست نہیں ۔ اصل کام یہ ہے کہ اردو اسکول یا عربی کے ساتھ ”الرسالہ“ جیسے کسی انفارمل تربیتی کورس کا اضافہ کر دیا جائے ۔ اس کے بعد ہر طالب علم اس طرح آگے بڑھ جائے گا جس طرح خالد صاحب آگے بڑھ گئے ۔ (ڈائری ، یکم دسمبر 1995) مثبت لٹریچر کی ضرورت ایک مدرسہ کے طالب علم نے کراچی بک فیر 2019 میں سی پی ایس انٹرنیشنل کے اسٹال پر آ کر اپنا تاثر ان الفاظ میں نقل کیا ہے: چار سال قبل میں عورتوں کے بارے میں عرب

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader