علما اور دینی مدارس
Urdu book, p. 89
By Maulana Wahiduddin Khan
غلطی بنا لیا۔ پہلے وہ دوسروں کے خلاف سوچا کرتے تھے، اب وہ اپنی اصلاح آپ کے انداز میں سوچنے لگے۔ بظاہر یہ ایک لفظ کا فرق تھا، لیکن یہ لفظ اتنا زیادہ پر حکمت تھا کہ اس نے ان کی پوری زندگی کو بدل دیا۔ ان کو منفی شخصیت (negative personality) سے نکال کر مثبت شخصیت (positive personality) بنا دیا۔ (الرسالہ، جولائی 2019) ایک نوجوان عالم دین کو نصیحت ایک نوجوان عالم دین، محمد طلحہ ندوی (بجنور) 26 مارچ 2019 کو ملاقات کے لیے میرے آفس میں آئے، اور نصیحت کی درخواست کی، تو میں نے ان کو یہ نصیحت کی: (1) رسول اللہ ﷺ کی حدیث کے مطابق آپ ٹھہر ٹھہر کر بولنا سیکھیں، کبھی تیز تیز نہ بولیں، تا کہ سننے والا ہر بات کو پکڑتا چلا جائے، یہی طریقہ رسول اللہ کا تھا: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يُحَدِّثُ حَدِيثًا لَوْ عَدَّهُ العَادُّ لَأَحْصَاهُ (صحيح البخاري، حديث نمبر 3567؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 2493)۔ یعنی رسول اللہ ﷺ کوئی بات اس طرح بولتے تھے کہ اگر کوئی گننے والا گننا چاہتا تو شمار کر لیتا۔ (2) سیاسی مسائل، اور شکایت کے مسائل اور دینی اختلاف کے مسائل پر بولنا بالکل چھوڑ دیں، ان کو ممنوعات کلام میں شمار کریں۔ اگر آپ نے ان دو نصیحتوں پر عمل کیا، تو ان شاء اللہ، آپ ایک نئے انسان بن جائیں گے۔ نوٹ: ہر انسان کو اس کے خالق نے کسی خاص صلاحیت کے ساتھ دنیا میں بھیجا ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے اس عطیہ الہی کو دریافت کرے، اور اس کو منصوبہ بند انداز میں استعمال کرے ۔ (الرسالہ، جون 2019)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader