علما اور دینی مدارس
Urdu book, p. 93
By Maulana Wahiduddin Khan
تواضع کے ذریعے آدمی علم کی دنیا میں داخل ہو جاتا ہے۔ جس آدمی کے اندر تواضع کی صفت نہ ہو، وہ دوسروں سے فائدہ نہیں اٹھائے گا، وہ علم کے کتب خانے کے اندر بھی علم سے محروم رہے گا۔ جانا ہے بہت دور ایک بزرگ نے ایک تعلیمی ادارہ قائم کیا۔ شروع شروع میں اس تعلیم گاہ کو بڑی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اساتذہ کو وقت پر تنخواہیں نہ ملتیں طلباء کے لیے بعض اوقات کھانے کا انتظام ناممکن ہو جاتا۔ چھپر کے سایہ کے نیچے تعلیم دی جاتی اس طرح کی بے شمار دشواریوں کے درمیان اس درس گاہ کو سفر کرنا پڑا۔ مگر دشواریاں جس طرح آدمی سے کچھ چیزیں چھینتی ہیں، اسی طرح وہ اسے کچھ چیزیں دیتی بھی ہیں۔ ظاہری اسباب کی کمی عزم وہمّت کو بڑھانے کا سبب بنتی ہے۔ ایسے جذبات اس کے اندر پیدا ہوتے ہیں جو فراوانی کے اندر کبھی پیدا نہیں ہوتے۔ اس تعلیمی ادارے کے ابتدائی زمانہ کا واقعہ ہے ایک روز سارے ادارے میں اداسی چھائی ہوئی تھی۔ حالات بے حد نامساعد نظر آ رہے تھے۔ درس گاہ کے ناظم نے طلبا واساتذہ کا ایک اجتماع کیا جب وہ تقریر کرنے کھڑے ہوئے تو بے اختیار ان کی زبان سے نکلا: ”موجودہ حالات میں ممکن ہے آپ کا جی ملامت کرتا ہو کہ آپ کہاں آ کر پھنس گئے۔ کیسی بنی بنائی درس گاہ میں گئے ہوتے تو آرام سے رہ سکتے تھے۔ مگر یہ گھبرانے کی بات نہیں، کیونکہ دوسرے اگر حال کے وارث ہیں تو یہاں آپ ایک نئے مستقبل کی تعمیر کر رہے ہیں۔ لوگ تاریخ خواں ہوتے ہیں مگر آپ کو قدرت نے ایک ایسے مقام پر کھڑا کیا ہے کہ آپ تاریخ ساز بن سکتے ہیں۔“

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader