Urdu book · علما اور دینی مدارس

جانا ہے بہت دور

Urdu book, p. 94

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ الفاظ جن حالات میں کہے گئے تھے اس کے اعتبار سے وہاں اس نے بجلی کا کام کیا۔ طلبہ اور اساتذہ میں ایک نیا جوش پیدا ہو گیا۔ وہ زندگی کی ایک اعلیٰ ترین اخلاقی قدر سے آشنا ہوئے۔ یہ کہ مستقبل کی تعمیر کے لیے حال میں جدوجہد کی جائے۔ یہ قدر، نفسیاتی طور پر، اس وقت ان کے لیے لامعلوم رہتی جب کہ وہ ایسے حالات میں نہ ہوتے۔ اسی طرح ناظم درس گاہ کی زبان سے بھی ہرگز یہ الفاظ نہ نکلتے اگر وہ آسودگی اور فارغ البالی میں ہوتے۔ ناظم اس لیے یہ الفاظ بول سکے اور سننے والے اسی لیے ان کو سمجھ سکے کہ وہ دشوار حالات میں تھے۔ آسانیوں کی فضا میں انھیں یہ سبق نہیں مل سکتا تھا۔ جو لوگ اپنے آپ کو مشکل حالات میں پائیں وہ اسے اپنی بدقسمتی تصور کرتے ہیں حالانکہ یہ صرف سمجھنے کی غلطی ہے اگر صحیح ذہن ہو اور عزم بیدار ہو تو مشکل حالات اس سے زیادہ بڑی چیزیں دیتے ہیں۔ جو آسانیوں اور راحتوں میں کسی کو ملتی ہے۔ دشواریاں آپ کو اعلیٰ ترین انسانی قدروں سے آشنا کرتی ہیں۔ آپ کے اندر سوز و درد پیدا کر کے آپ کے کلام کو بے پناہ بنا دیتی ہیں مشکلات کو عبور کرنے کا نیا ولولہ پیدا کرتی ہیں اور بالآخر آپ کو ان بلند ترین انسانوں میں شامل کرتی ہیں جن کو تاریخ خواں کے مقابلے میں تاریخ ساز کہا جاتا ہے۔ اوپر جس واقعہ کا حوالہ دیا گیا، وہ جامعۃ الرشاد اعظم گڑھ کا واقعہ ہے اور جس نے مذکورہ تقریر کی، وہ مولانا مجیب اللہ ندوی (2006-1918) تھے۔ اب خدا کے فضل سے یہ ادارہ "چھپر" کے دور سے نکل کر "بلڈنگ" کے دور میں داخل ہو گیا ہے اور تعلیم کے میدان میں ملت کو ایک نئی راہ دینے کے لیے کوشاں ہیں۔ ہر بار جب کوئی شخص نیا کام شروع کرتا ہے، تو اس راستہ میں غیر یقینی صورتِ حال سے لازماً دوچار ہوتا ہے۔ لیکن اگر وہ صبر اور امید کے ساتھ جما رہے تو استحکام کے مرحلہ پر پہنچنے سے کوئی بھی اسے روک نہیں سکتا۔ (الرسالہ، اپریل 1977)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page