نیشنلزم اور حب الوطنی
Urdu book, p. 11
By Maulana Wahiduddin Khan
مجھے اپنے وطن سے کتنا زیادہ لگا ؤ ہے۔ جو ہندو مجھے قریب سے جانتے ہیں، مثلاً سوامی اوم پورن سوتنترا (نئی دہلی) یا سوامی چیدانند (رشی کیش)، وغیرہ، وہ کہتے ہیں کہ آپ کے اندر جو دیش بھکتی ہے اس کی مثال ہم نے مہاتما گاندھی کے بعد کسی اور کے اندر نہیں دیکھی۔ میرے دل کی یہی تڑپ ہے جو مجھ کو مذکورہ قسم کی باتیں کہنے پر مجبور کرتی ہے۔ اس نوعیت کا ایک اور واقعہ یہ ہے کہ 20 جنوری 1997 کوئی دہلی میں پانیز ہاؤس میں ایک میٹنگ ہوئی۔ اس میں شہر کے اعلی تعلیم یافتہ لوگ شریک تھے۔ اس میٹنگ کا موضوع تھا — کیا گاندھی آج کے ہندوستان میں کامیاب ہوتے۔ میں نے اس موقع پر ایک لمبی تقریر کی۔ اس سلسلہ میں میں نے کہا کہ گاندھی پچھلے انڈیا میں بھی کامیاب نہیں ہوئے یہاں تک کہ 1947 میں انھیں خود یہ کہنا پڑا کہ: اب میری کون سنے گا۔ پھر گاندھی جب پچھلے انڈیا میں کامیاب نہیں ہوئے تو آج کے انڈیا میں وہ کس طرح کامیاب ہوتے۔ ایک ہندو پروفیسر نے میری بات سن کر کسی قدر برہمی کے ساتھ کہا کہ آپ مہاتما گاندھی پر تنقید کر رہے ہیں۔ یہ سن کر میرا دل تڑپ اٹھا۔ میری آنکھوں میں آنسو آگئے۔ میں نے درد بھرے لہجے میں کہا: I love Gandhi, but I love India more than Gandhi میری یہ بات سن کر پروفیسر صاحب خاموش ہو گئے ۔ اس کے بعد کسی نے بھی میری تنقیدی تقریر کے بارے میں کچھ نہیں کہا۔ میری یہ تقریر مکمل طور پر انگریزی اخبار پائیر (نئی دہلی) کے شمارہ 26 جنوری 1997 میں چھپ چکی ہے۔ میری بعض تنقیدوں کو سن کر ایک تعلیم یافتہ ہندو نے کہا کہ آپ ہمارے قومی لیڈروں کی اتنی سخت آلوچنا کرتے ہیں۔ آخر کس نے آپ کو اس کا ادھیکار دیا ہے۔ میں نے جواب دیا کہ میری دیش بھکتی (حب الوطنی) سے مجھ کو یہ ادھیکار پر اپت ہوا ہے۔ یہ سن کر وہ چپ ہو گئے ۔ (ہند۔ پاک ڈائری، صفحہ 32-30)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader