نیشنلزم اور حب الوطنی
Urdu book, p. 10
By Maulana Wahiduddin Khan
انڈیا کے نیشنل انٹرسٹ کے خلاف تھی۔ مثلاً آرمی وردی فوجی افسر نے مجھ سے کہا کہ انڈیا کے کچھ فوجی راز بتائیے۔ کچھ دیر تک میں برداشت کرتے ہوئے اس کی باتیں سنتا رہا۔ پھر میں نے کہا میجر صاحب، آپ مجھ سے یہ سمجھ کر بات کیجئے کہ میں انڈیا کا ایک وفادار شہری ہوں۔ اس کے بعد میں نے تقریباً پندرہ منٹ تک نہایت سخت انداز میں اس کے سامنے تقریر کی۔ میں جانتا تھا کہ اس وقت اگر وہ مجھے گولی مار دے تو یہاں مجھے کوئی بچانے والا نہ ہوگا۔ مگر صورت حال کی نزاکت کی پروا کیے بغیر میں نے اس سے وہ سب کچھ کہہ ڈالا جو ایک ہندوستانی شہری کی حیثیت سے میں کہہ سکتا تھا۔ مذکورہ فوجی میجر سے جو باتیں میں نے کہی، ان میں سے ایک بات یہ تھی اگر انڈیا کے ساتھ آپ کی لڑائی کا انحصار ہمارے جیسے لوگوں سے فوجی راز حاصل کرنے پر ہے تو آپ اپنی لڑائی جیت چکے۔ کیوں کہ موجودہ زمانہ میں جنگی راز اتنا ٹاپ سیکریٹ ہوتا ہے کہ بعض اوقات وزیر دفاع کو بھی اس کی خبر نہیں ہوتی۔ تقریباً آدھ گھنٹہ تک میں اس قسم کی باتیں کرتا رہا۔ اس کے بعد سلام اور معذرت کے بغیر خیمہ سے باہر نکل آیا۔ مذکورہ میجر مکمل خاموشی کے ساتھ میری باتوں کو سنتا رہا۔ جب میں باہر نکلا تو وہ بھی میرے پیچھے پیچھے باہر آگیا۔ اس نے کہا: مولانا صاحب، ہم کو آپ ہی جیسے لوگوں کی ضرورت ہے۔ یہ بات میں نے پاکستان کی سرزمین پر ایک فوجی خیمے میں اس وقت کہی جب کہ اگر وہ فوجی افسر مجھے گولی مار دیتا تو شاید میری موت اس طرح واقع ہو جاتی کہ اس کی کوئی خبر بھی نہ بنتی۔ جس وقت میں نے پاکستان کے فوجی افسر سے یہ باتیں کہیں اس وقت میرا مذہب، میرا لباس، میری بولی، میری خاندانی روایات، سب کچھ ایک عام ہندو سے مختلف تھیں ۔ مگر قومی احساس کے اعتبار سے اس وقت میرا احساس عین وہی تھا جو ایک دیش بھگت ہندو کا احساس ہوسکتا ہے۔ میری زندگی کے سیکڑوں واقعات میں سے یہ صرف چند واقعات ہیں جو بتاتے ہیں کہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader