حب الوطنی
Urdu book, p. 13
By Maulana Wahiduddin Khan
دنیا میں نظری یا عملی طور پر قبول کر لیا گیا ہے۔ وہ یہ کہ قومیت (nationhood) کی بنیاد وطن (motherland) پر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام دنیا میں پاسپورٹ پر کسی آدمی کی قومیت (nationlity) وہی لکھی جاتی ہے، جو وطن کی نسبت سے اس کی ہے، خواہ وہ ایک مذہب سے تعلق رکھنے والا ہو، یا دوسرے مذہب سے۔ مثلاً انڈیا میں ہر مسلمان یا غیر مسلمان پاسپورٹ میں اپنے آپ کو انڈین لکھتا ہے، برطانیہ میں برٹش، امریکہ میں امریکن، وغیرہ۔ مبنی بروطن قومیت کا یہ نظریہ اسلام کے عین مطابق ہے۔ اس معاملہ میں اسلام اور بقیہ دنیا میں کوئی اختلاف یا ٹکراء نہیں۔ مولانا سید حسین احمد مدنی نے کہا تھا کہ موجودہ زمانے میں قو میں اوطان سے بنتی ہیں۔ اس پر کچھ لوگوں نے یہ اضافہ کرنے کی کوشش کی ہے کہ مولانامدنی کا یہ جملہ خبر ہے، وہ انشاء نہیں۔ یعنی یہ ایک واقعہ ہے کہ بقیہ دنیا میں وطن کو قومیت کی بنیاد مان لیا گیا ہے۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ اسلام میں بھی قومیت کی بنیاد وطن پر قائم ہے۔ مگر یہ تشریح درست نہیں۔ اس سلسلہ میں یہاں میں چند باتیں عرض کروں گا۔ فقہ کا ایک مستقل اصول یہ ہے کہ چیزوں کی اصل (بنیادی حکم) ان کا مباح ہونا ہے (الأَصْل في الأَشْيَاءِ الإِبَاحَة ) ، جب تک کہ حرام ہونے کی دلیل نہ ملے: Everything is lawful unless it is declared unlawful. یہاں چیز سے مراد دنیوی معاملات ہیں۔ یہ ایک واضح بات ہے کہ قومیت کے مسئلہ کے بارے میں قرآن وحدیث میں کوئی براہِ راست حکم موجود نہیں۔ قرآن وحدیث میں نہ یہ کہا گیا ہے کہ قومیت کی بنیاد مذہب پر ہے، اور نہ یہ کہ اس کی بنیاد وطن پر ہے۔ اس لیے اس معاملہ کو ان امور سے متعلق سمجھا جائے گا، جن کی بابت پیغمبر اسلام نے کہا: أَنْتُمْ أَعْلَمُ بِأَمْرِ دُنْيَاكُمْ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2363)۔ یعنی تم اپنی دنیا کے معاملہ کو زیادہ جانتے ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جہاں تک عقیدہ اور عبادت اور آخرت کے معاملات کا تعلق ہے، ان میں مسلمان پابند ہیں کہ وہ شریعت کی رہنمائی کو تاویل کے بغیر قبول کریں،

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader