Urdu book · وطن سے محبت: اسلامی فکر کی روشنی میں

حب الوطنی

Urdu book, p. 14

By Maulana Wahiduddin Khan

مگر جو امورِ انتظامِ دنیا سے تعلق رکھنے والے ہیں، ان میں انسان کو اختیار ہے کہ وہ اپنے حالات کے لحاظ سے جس طریقہ کو درست سمجھے اس کو اختیار کرے۔ اس معاملہ میں ایک پیغمبرانہ واقعہ سے مزید رہنمائی ملتی ہے۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں یمن میں ایک شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا اس کا نام مسیلمہ تھا۔ اس نے دو آدمیوں پر مشتمل اپنا ایک سفارتی وفد مدینہ بھیجا۔ انھوں نے مدینہ آ کر پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کی، اور مدعیِ نبوت کا یہ تحریری پیغام پہنچایا کہ میں نبوت میں آپ کے ساتھ شریک کیا گیا ہوں (فَإِنِّي قَدْ أُشْرِکْتُ فِي الْأَمْرِ مَعَکَ)۔ مسیلمہ کے دونوں سفیروں سے کلام کرنے کے بعد آپ نے ان سے پوچھا کہ اس بارے میں تمہاری رائے کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہماری بھی وہی رائے ہے جو ہمارے صاحب کی رائے ہے۔ یہ سن کر آپ نے فرمایا کہ خدا کی قسم اگر ایسا نہ ہوتا کہ سفیروں کو قتل نہیں کیا جاتا تو میں تم دونوں کو قتل کر دیتا: أَمَّا وَاللهِ لَوْلَا أَنَّ الرُّسُلَ لَا تُقْتَلُ لَضَرَبْتُ أَعْنَاقَكُمَا (سیرت ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 600)۔ پیغمبرِ اسلام کے اس واقعہ سے اسلام کا ایک اصول معلوم ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ بین الاقوامی معاملات میں شریعت کا طریقہ بھی وہی ہوگا، جو دوسری قوموں کا طریقہ ہے۔ دوسری قوموں میں اگر سفیر کی جان کو ہر حال میں محترم سمجھا جاتا ہے، تو اسلام میں بھی اس کو ہر حال میں محترم سمجھا جائے گا۔ اسی طرح اس پر قیاس کرتے ہوئے یہ کہنا بھی بالکل درست ہے کہ وطنبیت کے معاملہ میں دنیا میں جس اصول کو عمومی طور پر مان لیا جائے وہی شریعت میں بھی اختیار کر لیا جائے گا۔ اس معاملہ کو غیر ضروری طور پر عقیدہ اور مذہب کا مسئلہ نہیں بنایا جائے گا۔ ایک بار میں ایک جلسہ میں شریک تھا۔ وہاں ایک صاحب نے اپنی تقریر میں وطن کی محبت کی اہمیت بیان کی، اور کہا کہ اسلام میں بھی اس کی اہمیت کو تسلیم کیا گیا ہے۔ چنانچہ حدیث میں آیا ہے : حُبُّ الْوَطَنِ مِنَ الْإِيْمَانِ (الموضوعات للصغانی، حدیث نمبر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page