Urdu book · وطن سے محبت: اسلامی فکر کی روشنی میں

حب الوطنی

Urdu book, p. 16

By Maulana Wahiduddin Khan

میں نے کہا کہ اسلام دین فطرت ہے اس لیے فطرت انسانی کا ہر صحیح تقاضا بھی عین اسلام کا تقاضا ہے۔ مثال کے طور پر حدیث میں کہیں نہیں آیا ہے کہ حبُّ الأم من الإیمان ( ماں کی محبت ایمان کا حصہ ہے )۔ اس کے باوجود یہ حقیقت ہے کہ ہر مسلمان اس کو اپنا فرض سمجھتا ہے کہ اس کے دل میں اپنی ماں سے محبت ہو۔ جس آدمی کے دل میں اپنی ماں کی محبت نہ ہو، وہ اپنے ایمان میں بھی کامل نہ ہوگا۔ کیونکہ فطرت اور ایمان میں کوئی تضاد نہیں۔ اسی طرح وطن سے محبت بھی بلاشبہ ہر مسلمان کے لیے ایک ایمانی تقاضے کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ آدمی جس ملک میں پیدا ہوا، جہاں اُس کی پرورش ہوئی، جہاں کی ہوا میں اس نے سانس لیا، جہاں کے لوگوں سے اس کے تعلقات قائم ہوئے، جہاں اُس نے اپنی زندگی کی تعمیر کی، ایسے ملک سے محبت کرنا انسانی شرافت کا تقاضا ہے، اور اِسی طرح وہ انسان کے ایمان و اسلام کا بھی تقاضا۔ میں نے کہا کہ جو چیز فطرت انسانی کا جز ہو، اس کو قرآن و حدیث میں لکھنے کی ضرورت نہیں، وہ قرآن و حدیث میں لکھے بغیر ہی شریعت کا ایک لازمی جزء ہے۔ قرآن وحدیث میں یہ حکم نہیں دیا گیا کہ اے مسلمانو، تم اپنی ماں سے محبت کرو۔ کیونکہ یہ چیز حکم کے بغیر اپنے آپ ہی فطرت کے زور پر حاصل تھی۔ اسی طرح قرآن و حدیث میں یہ لکھنے کی ضرورت بھی نہیں کہ اے مسلمانو، تم اپنے وطن سے محبت کرو۔ کیونکہ وطن سے محبت انسانی شرافت کا تقاضا ہے، وہ انسان ایک پست انسان ہے جس کے دل میں اپنے وطن کے لیے محبت نہ ہو۔ ایسے گہرے فطری تقاضے کے لیے شریعت میں کسی لفظی حکم کی ضرورت نہیں، وہ اپنے آپ ہر مومن کے دل میں پہلے ہی سے موجود ہوتا ہے۔ یہاں ایک معاملہ کی وضاحت ضروری ہے۔ بعض انتہا پسند ہندو لیڈروں نے لکھا ہے کہ ہندوستان کے عیسائی اور مسلمان سچے محب وطن نہیں ہو سکتے۔ اس لیے کہ محب وطن ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اس وطن یا اس جغرافی خطہ کو آدمی مقدس سمجھتا ہو، جہاں وہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page