حب الوطنی
Urdu book, p. 15
By Maulana Wahiduddin Khan
81) ۔ یعنی، وطن سے محبت کرنا ایمان کا ایک حصہ ہے۔ ایک عالمِ دین جو اس وقت جلسہ میں موجود تھے، انھوں نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ حبِ الوطن من الایمان کوئی حدیث نہیں ہے، یہ تو صرف ایک عربی مقولہ ہے۔ میں نے کہا کہ یہ درست ہے کہ حب الوطن من الایمان حدیث نہیں۔ مگر وہ سادہ طور پر عربی کا ایک مقولہ نہیں، بلکہ وہ فطرت کا ایک مقولہ ہے، جو انسانی نفسیات کی ترجمانی کرتا ہے۔ محدثین عام طور پر اس قول کو حدیث رسول نہیں مانتے، وہ اس کو ضعیف یا موضوع قرار دیتے ہیں۔ تاہم کچھ علما نے اس قول کو معنوی اعتبار سے درست قرار دیا ہے۔ مثلاً آٹھویں صدی ہجری کے مشہور عالم محمد بن عبد الرحمن السخاوی (وفات 1497ء) نے اس قول کے بارے میں لکھا ہے : لَمْ أَقِفْ عَلَيْهِ، وَمَعْنَاهُ صَحِيحٌ (المقاصد الحسنۃ، حدیث نمبر (386) ۔ یعنی، میں اس حدیث سے واقف نہیں، لیکن اس کا مفہوم درست ہے۔ محدثین کے اصول کے مطابق، امام السخاوی کے اس قول کا مطلب یہ ہے کہ یہ قول حدیثِ رسول کے طور پر ان کو نہیں ملا، لیکن دینِ اسلام میں اس کی اصل پائی جاتی ہے۔ کتابوں کے ذخیرے میں بہت سی چیزیں ہیں، جو خواہ حدیث رسول نہ ہوں، لیکن وہ یقینی طور پر حدیثِ فطرت ہیں۔ اس بات کو بتانے کے لیے محدثین نے وہ اصول بنایا ہے، جس کو سخاوی کے حوالے سے اوپر بیان کیا گیا۔ راقم الحروف کا خیال یہ ہے کہ یہ قول اگر کلامِ رسول کے طور پر ثابت شدہ نہ ہو، تب بھی وہ حدیثِ فطرت ہے۔ جو آدمی وطن کی محبت کو فطرت کا جزء نہ سمجھتا ہو، وہ جانتا ہی نہیں کہ فطرت کیا چیز ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وطن سے محبت انسانی فطرت کا ایک لازمی تقاضا ہے، اور فطرت کا تقاضا ہونا ہی اس بات کے لیے کافی ہے کہ حب الوطنی (patriotism) کو اسلام کا ایک حصہ سمجھا جائے۔ اسلام جب دین فطرت (religion of nature) ہے تو فطرتِ بشری کی ہر چیز اسلام کا حصہ قرار پائے گی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader