Urdu book · وطن سے محبت: اسلامی فکر کی روشنی میں

وطن سے محبت: اسلامی فکر کی روشنی میں

Urdu book, p. 19

By Maulana Wahiduddin Khan

میں کوئی ٹکراؤ نہیں، مگر اقبال کے ذہن میں اسلام کا وہ تاریخی تصور تھا، جو بعد کو مسلم ایمپائر کے زمانے میں بنا۔ مسلم ایمپائر کے دور میں سارے مسلمانوں کا وطن ایک ہی مانا جاتا تھا، لیکن دوسری عالمی جنگ کے بعد جب مسلم ایمپائر ٹوٹ گیا اور پچاس سے زیادہ الگ الگ ملک بن گئے تو اب مسلمانوں کی قومیت اُن کے موجودہ وطن کی نسبت سے متعین کی جائے گی۔ اس معاملے میں مسلم ایمپائر کا زمانہ کوئی معیاری چیز نہیں، قدیم مسلم ایمپائر مسلمانوں کی سیاسی تاریخ کا ایک وقتی ظاہرہ تھا، وہ اسلام کا دوامی حصہ نہیں۔ (ڈائری، (2007 دسمبر 12 قومیت کی بنیاد وطن ڈاکٹر مبارک علی پاکستان کے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ آدمی ہیں۔ انھوں نے ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ آج کل مسلم امہ کا لفظ جس عالمی معنی میں بولا جاتا ہے وہ اس سے پہلے کبھی اسلامی دور میں موجود نہ تھا۔ سچی بات تو یہ ہے کہ مسلم امہ ایک مفروضہ ہے جس کا حقیقی تصور نہ پہلے تھا، نہ اب ہے۔ مسلمانوں کی جو بڑی بڑی سلطنتیں بنی ہیں وہ بھی ذو معنی رہی ہیں مثلاً عثمانی ایمپائر کے دوران ارمنین ایک الگ ملت تھی اور اسے ملت ہی بولا جاتا تھا اور ملت کا لفظ بالعموم چھوٹی اقوام کے لیے استعمال ہوا ہے۔ مسلمانوں میں قومی ریاستوں کا وجود بہت شروع سے رہا ہے۔ تمام مسلم اقوام کی شناخت الگ الگ علاقائی لسانی بنیادوں پر یا نسلی بنیادوں پر قائم رہی ہے۔ کیوں کہ اسلام مذہب ہے قوم نہیں۔ میثاق مدینہ میں بھی یہ چیز صاف طور پر دیکھی جاسکتی ہے، جب یہود بھی مسلم امہ میں شامل تھے ۔ یہ تصور وقت اور حالات کی مطابقت میں ڈھلتا رہا ہے۔ لہذا میری نظر میں ہمارے بین الاقوامی معاملات اور تعلقات انسانی بنیادوں پر ہونے چاہئیں ۔ (سنڈے میگزین 18 مئی (2003 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ آئے اور پہلی اسلامی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page