Urdu book · وطن سے محبت: اسلامی فکر کی روشنی میں

وطن سے محبت: اسلامی فکر کی روشنی میں

Urdu book, p. 20

By Maulana Wahiduddin Khan

اسٹیٹ بنائی تو اس وقت وہاں کچھ یہودی قبیلے بھی آباد تھے، اس وقت آپ نے ایک ڈکلریشن جاری کیا جس کو عام طور پر میثاق مدینہ کہا جاتا ہے۔ اس میثاق میں آپ نے لکھا تھا، جس کا ایک جملہ یہ تھا کہ یہود مسلمانوں کے ساتھ ایک امت ہیں : وَإِنَّ يَهُودَ بَنِي عَوْفٍ أُمَّةٌ مَّعَ الْمُؤْمِنِينَ (سیرت ابن ہشام ، جلد 1، صفحہ 503)۔ یعنی، اور یہ کہ بنوعوف کے یہود مسلمانوں کے ساتھ ایک امت ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ قومیت کی بنیاد ہمیشہ وطن ہوتا ہے، نہ کہ مذہب۔ (ڈائری ، 26 اپریل 2004) اس جملہ میں امت کا لفظ تقریباً اسی معنی میں ہے جس معنی میں آج کل قوم (nation) کا لفظ بولا جاتا ہے۔ یعنی مدینہ کے یہودی اور مدینہ کے مسلمان جو ایک ساتھ ایک وطن میں رہتے ہیں دونوں ہم قوم ہیں، دونوں ایک ہی قوم سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس اصول کو ہندوستان پر منطبق کیا جائے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ یہاں کے ہندو اور مسلمان دونوں ایک امت یا ایک قوم ہیں۔ دونوں کی قومیت (nationhood) ایک ہے۔ یہی معاملہ دوسرے ان ملکوں کا ہے جہاں مسلمان غیرمسلموں کے ساتھ رہتے ہیں۔ (ڈائری ، یکم اکتوبر 2003) قوم اور قومیت قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر پیغمبر نے اپنے غیر مومن مخاطبین کو اے میری قوم (يَا قَوْمِ) کے لفظ سے خطاب کیا ہے (مثال کے طور پر قرآن کی ان آیات کا مطالعہ کیجیے، 79,85 ,67,61)۔ اس قرآنی بیان کے مطابق ، مومن اور غیر مومن کی قومیت (نیشنلٹی) ایک ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قومیت کا تعلق مذہب سے نہیں ہے، بلکہ وطن سے ہے۔ مذہبی اشتراک کو بتانے کے لیے ملّت کا لفظ بولا جائے گا (النساء، 4:125)، اور وطنی اشتراک کو بتانے کے لیے قومیت کا لفظ (ہود، 11:89)۔ موجودہ زمانہ میں وطن

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page