Urdu book · وطن سے محبت: اسلامی فکر کی روشنی میں

قوم اور قومیت

Urdu book, p. 23

By Maulana Wahiduddin Khan

اس دور میں مے اور ہے جام اور ہے جم اور تہذیب کے آزر نے ترشواتے صنم اور ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے جو پیرہن اُس کا ہے وہ مذہب کا کفن ہے قومیت اور وطنيت کے بارے میں یہ نظریہ بلا شبہ بے بنیاد ہے۔ عجیب بات ہے کہ اُس دَور کے اکثر مسلم علما اور دانشوروں نے سیاسی نوعیت کی چیزوں کو مذہب یا اسلام کے لیے موت وحیات کا مسئلہ سمجھ لیا۔ حالاں کہ کوئی بھی سیاسی اُتار چڑھاؤ مذہبِ اسلام کی ابدیت کے لیے چیلنج نہیں بن سکتا۔ مثلاً بیسویں صدی کے آغاز میں ترکی کی عثمانی سلطنت ٹوٹی تو شبلی نعمانی نے یہ شعر کہا: زوالِ دولت عثماں زوالِ شرع وملت ہے عزیز و فکرِ فرزند و عیال و خانماں کب تک یہ تصورِ یقینی طور پر بے بنیاد ہے کہ کسی حکومت کا ٹوٹنا "شرع وملت" کے لیے زوال کے ہم معنی ہے۔ ایسا نہ کبھی ہوا اور نہ ایسا کبھی ہو سکتا۔ دَورِ اول میں خلافتِ راشدہ ختم ہوئی مگر اسلام باقی رہا۔ اس کے بعد اموی سلطنت ٹوٹی تب بھی اسلام کا سفر بدستور جاری رہا، اس کے بعد عباسی سلطنت ٹوٹی، اندلس کی مسلم سلطنت ٹوٹی، مصر کی فاطمی سلطنت ٹوٹی، ہندوستان کی مغل سلطنت ٹوٹی، وغیرہ وغیرہ۔ مگر سلطنتوں کا یہ زوالِ اسلام کے زوال کا سبب نہ بن سکا۔ اسی طرح بیسویں صدی میں کئی انتہا پسندانہ نظریات ابھرے۔ مثلاً کمیونزم، نازی ازم، نیشنلزم اور وطنيت، وغیرہ۔ مگر ان سب کا آخری انجام یہ ہوا کہ فطرت کا قانون اُن کے انتہا پسندانہ عناصر کو رد کرتا ہے اور آخر کار جو چیز بچی وہ وہی تھی جو قانونِ فطرت کے مطابق مطلوب تھی۔ فطرت کا ابدی قانون ہر دوسری چیز پر بالا ہے۔ فطرت کا قانون اپنے آپ یہ کرتا ہے کہ وہ غیر معتدل افکار کو رد کر کے اُنہیں میدانِ حیات سے ہٹا دیتا ہے اور اُن کے بجائے معتدل افکار کو کام کرنے کا موقع دیتا ہے۔ (الرسالہ فروری، 2004)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page