Urdu book · وطن سے محبت: اسلامی فکر کی روشنی میں

قوم اور قومیت

Urdu book, p. 22

By Maulana Wahiduddin Khan

ساتھ کہ پہلے وہ مجمل مفہوم میں بولا جاتا تھا اور اب وہ مفصل مفہوم میں استعمال ہوتا ہے۔ کچھ لوگ قومیت کی تشریح انتہا پسندانہ انداز میں کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ قومیت کو مذہب کے ہم معنی بنا دیتے ہیں، مگر یہ ایک نظریاتی انتہا پسندی ہے۔ اس قسم کی نظریاتی انتہا پسندی کی مثالیں خود اہل مذہب میں بھی پائی جاتی ہیں۔ مثلاً موجودہ زمانہ میں کچھ مسلم مفکرین نے اسلام کی تشریح ایسے انتہا پسندانہ انداز میں کی کہ اسلام کے سوا ہر نظام طاغوتی نظام بن گیا۔ کسی مسلمان کے لیے اس طاغوتی نظام میں موافقت کر کے رہنا حرام قرار پا گیا۔ حتی کہ اس مفروضہ طاغوتی نظام میں تعلیم حاصل کرنا، سرکاری ملازمت کرنا، ووٹ دینا، نزاعات کے قانونی تصفیہ کے لیے ملکی عدالت سے رجوع کرنا، سب کا سب حرام قرار پا گیا۔ طاغوتی نظام کا یہ نظریہ بعض افراد کے انتہا پسندانہ ذہن کی پیداوار تھا، اُس کا خدا اور رسول والے اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حقائق نے اس نظریہ کے وابستگان کو مجبور کیا کہ وہ اپنی عملی زندگی میں اس سے دست بردار ہو جائیں۔ چنانچہ اب یہ تمام لوگ بلا اعلان عملی طور پر اس انتہا پسندانہ نظریہ کو چھوڑ چکے ہیں۔ یہی معاملہ قومیت کا بھی ہے۔ مغرب کے کچھ انتہا پسند مفکرین نے قومیت کو توسیع دے کر مکمل مذہب کے روپ میں پیش کیا۔ مگر حقائق کی چٹان سے ٹکرا کر یہ نظریہ ٹوٹ کر ختم ہو گیا۔ اب عملی طور پر قومیت کا تصور تقریباً اسی فطری معنی میں بولا جاتا ہے جس فطری معنی میں وہ قرآن کے اندر استعمال ہوا تھا۔ بیسویں صدی کے نصفِ اول میں اُٹھنے والے مسلم رہنما اس فرق کو سمجھ نہ سکے۔ انہوں نے قومیت اور وطنيت کے معاملہ میں اس غير فطری انتہا پسندی کو اصل سمجھ لیا اور اس بنا پر اُس کے غیر اسلامی ہونے کا اعلان کر دیا۔ اس کی ایک مثال مشہور مسلم شاعر اقبال (وفات 1938) کی ہے۔ انھوں نے قومیت اور وطنيت کے اس انتہا پسندانہ وقتی تصور کو اصل سمجھ کر اُس کے بارے میں یہ اشعار کہے تھے:

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page