قومیت کا مسئلہ
Urdu book, p. 27
By Maulana Wahiduddin Khan
قومیت کا تعلق وطن سے ہے، نہ کہ مذہب سے۔ یہ اعلان اگر مسلمانوں کی طرف سے کھلے طور پر کر دیا جائے تو مذکورہ تضاد ختم ہو جائے گا اور پھر کسی کو یہ موقع نہ ہو گا کہ وہ اُن کی وطنی وفاداری پر شک کرے۔ مسلمان اگر ان دونوں میں سے کوئی موقف اختیار نہ کریں بلکہ وہ یہ کریں کہ موقف کے بارے میں کھلے اعلان کے بغیر وہ اپنے ملک کی مادی تقسیم میں اپنا حصہ لینے لگیں تو یہ ایک دوہرا معیار (double standard) کی روش ہوگی۔ یعنی اپنے نظری یا اعتقادی موقف میں تبدیلی کا اعلان کیے بغیر خاموشی کے ساتھ اپنے عملی موقف کو بدل لینا۔ اس قسم کی روش ایک افادی (opportunistic) روش قرار پائے گی، نہ کہ کوئی اصولی روش۔ اس طرح دو عملی کی روش اختیار کرنا کوئی سادہ بات نہیں۔ اس کے نقصانات بے حد سنگین ہیں۔ ایسا کرنے کی صورت میں یہ ہوگا کہ مسلمانوں کے اندر سے با اصول کردار کا مزاج ختم ہو جائے گا۔ اُن کا روحانی ارتقا (spiritual development) رک جائے گا۔ اُن کے اندر فکری عمل (intellectual process) جاری نہ ہو سکے گا۔ اُن کی شخصیت ارتقائی منازل طے کرنے سے محروم ہو جائے گی۔ وہ اُس عظیم نعمت کی لذت سے نا آشنا ہو جائیں گے جس کو قرآن میں ازدیادِ ایمان (الفتح 48:4) کہا گیا ہے۔ اس صورت حال کا آخری نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ جمود ذہنی کا شکار ہو کر رہ جائیں گے۔ وہ اس قابل نہ رہیں گے کہ وہ علم و فکر کے اعتبار سے دنیا میں کوئی بڑا کارنامہ انجام دے سکیں۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ ہر پیغمبر کی امت کو خدا کی طرف سے الگ الگ شریعت اور منہاج دیا گیا (المائدہ، 5:48)۔ یہ بات بظاہر امت کے حوالے سے کہی گئی ہے، مگر وہ حقیقتہً زمانہ کی نسبت سے مقصود ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر زمانہ کے لوگوں کو ان کے زمانی حالات کی نسبت سے انہیں شریعت اور منہاج عطا کیا گیا۔ اسی لیے فقہ میں مسئلہ بنا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader