وطن سے محبت: اسلامی فکر کی روشنی میں
Urdu book, p. 28
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے کہ زمانہ اور مقام کے بدلنے سے احکام بدل جاتے ہیں: تتغیر الاحکام بتغیر الزمان والمکان (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو، اعلام الموقعین لابن القیم الجوزية، جلد 3، صفحه 11؛ مجلۃ الاحکام العدلیة، ماده: 39)۔ تشریع الہی کا یہ اصول صرف پیغمبر اسلام سے پہلے کے لوگوں کے لیے نہیں تھا۔ بلکہ وہ پیغمبر اسلام کے بعد آپ کی امت کے لیے بھی اسی طرح مطلوب ہے۔ صرف اس فرق کے ساتھ کہ پچھلی امتوں کو براہ راست پیغمبر کے ذریعہ اس تبدیلی حکم کی تعلیم دی جاتی تھی۔ اور اب ختم نبوت کے بعد علما کے اجتہاد کے ذریعہ تبدیلی حکم کا یہ کام انجام پائے گا۔ اس تشریعی اصول کے مطابق، بجاطور پر کہا جاسکتا ہے کہ قومیت (nationality) کے معاملہ میں موجودہ زمانہ میں جو تصور عالمی سطح پر رائج اور مسلم ہو گیا ہے اس کی روشنی میں اجتہاد کرکے دوبارہ اس معاملہ میں شریعت کا موقف متعین کیا جائے گا۔ اور یہ موقف وہی ہے جس کا اعلان 1947 سے پہلے کے زمانہ میں مولاناسید حسین احمد مدنی نے کیا تھا۔ شرعی موقف یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمان کے مسلمان عقیدہ اور مذہب کے اعتبار سے بلاشبہ ایک عقیدہ اور ایک مذہب رکھتے ہیں۔ مگر جہاں تک قومیت کا تعلق ہے، وہ ملک کی نسبت سے متعین ہوگی۔ یعنی ہر ملک کے مسلمانوں کی قومیت وہی قرار پائے گی، جو اس ملک کے دوسرے گروہوں کی ہے۔ (الرسالہ دسمبر 2003) ہندوستانی قومیت اس وقت ہماری گفتگو کا موضوع ہے— ہندوستانی قومیت کی تشکیل کس طرح ہوتی ہے: What Constitutes Indian Nationalism یہ سوال بلاشبہ نہایت اہم قومی سوال ہے۔ اس سوال کے حل پر ملک کی تعمیر و ترقی کا انحصار ہے۔ اس اعتبار سے اس سوال کو 1947 ہی میں آخری طور پر طے ہو جانا چاہیے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader