Urdu book · وطن سے محبت: اسلامی فکر کی روشنی میں

ہندوستانی قومیت

Urdu book, p. 30

By Maulana Wahiduddin Khan

دوسرے ملک سے ہوگا ، خواہ وہ کرکٹ کے میدان میں ہو یا جنگ کے میدان میں ، تو ہمارے جذبات لازمی طور پر اپنے وطن کے ساتھ ہوں گے۔ اس معاملہ میں انفرادی روش ہرگز قابل برداشت نہیں ہوسکتی ــــ نان کامن کو کامن بنانا جتنا غلط ہے ، اتنا ہی کامن کو نان بنانا بھی غلط ہے۔ اس مسئلہ کو سادہ اور فطری طور پر سمجھنے کی آسان صورت یہ ہے کہ اس کو خاندان کی سطح پر دیکھا جائے ۔ خاندان کسی قوم کی ابتدائی یونٹ ہوتا ہے۔ بہت سے خاندان کے مجموعہ ہی کا نام نیشن ہے۔ اب دیکھیے کہ خاندان کی سطح پر اس مسئلہ کی نوعیت کیا ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ خاندان کی سطح پر ہمیشہ کچھ باتیں کامن انٹرسٹ کی ہوتی ہیں۔ ان میں ہر فیملی ممبر کی رائے صرف ایک ہوتی ہے ۔ اور ان کے علاوہ کچھ چیزیں انفرادی ذوق (taste) کی ہوتی ہیں۔ ان میں ہر فیملی ممبر کی سوچ الگ الگ ہوتی ہے۔ کامن انٹرسٹ میں مثال کے طور پر ایک اہم چیز معاشی یا مالی انٹرسٹ ہے۔ وہ چیزیں جو فیملی کے معاشی انٹرسٹ سے تعلق رکھتی ہوں ان میں ہر ایک کی سوچ بالکل یکساں ہوتی ہے۔ ایسے معاملات میں فیملی کے تمام ممبر بلا اختلاف ایک ہی نقطہ نظر کو اپنائے ہوئے ہوتے ہیں۔ ایسے معاملات میں اگر کئی نقطہ نظر چلائے جائیں تو خود فیملی کا وجود ہی خطرہ میں پڑ جائے گا۔ مگر جہاں تک انفرادی ٹیسٹ کا معاملہ ہے ، تو یہاں ہر ایک کا کیس الگ الگ بن جاتا ہے۔ مثلاً کوئی ایک قسم کا کھانا پسند کرتا ہے اور کوئی دوسرے قسم کا کھانا۔ کوئی ویسٹرن لباس پہنتا ہے اور کوئی ایسٹرن لباس۔ کسی کو ادب سے لگاؤ ہوتا ہے اور کسی کو سائنس سے۔ کوئی کٹر مذہبی ہوتا ہے اور کوئی مذہب کے معاملہ میں لبرل ہوتا ہے۔ کسی کو ایک رنگ کا فرنیچر پسند ہوتا ہے اور کسی کو دوسرے رنگ کا فرنیچر ، وغیرہ۔ اسی دوگانہ اصول پر تمام خاندانوں کا نظام چل رہا ہے۔ خواہ وہ ہندو خاندان ہو یا مسلم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page