ہندوستانی قومیت
Urdu book, p. 31
By Maulana Wahiduddin Khan
خاندان، یا اور کسی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والا خاندان۔ ہر ایک کے لیے فطرت کا یہی اصول ہے، اور دنیا میں ہر جگہ یہی اصول کار فرما ہے۔ نومبر 1991 میں شولا پور (مہاراشٹر) میں قومی یکتا کے موضوع پر ایک سیمینار تھا۔ اس میں مجھے شریک ہونے کا اتفاق ہوا۔ اس موقع پر مقامی ایم ایل اے شری تلسی داس جادھو نے بھی تقریر کی۔ انھوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ میں نے اپنے گھر میں دیکھا ہے کہ میرے باپ نان ویجیٹیرین تھے۔ میری ماں کٹڑ قسم کی ویجیٹیرین تھی۔ اس کے باوجود دونوں میں کبھی کوئی اختلاف نہیں ہوا۔ میں نے سالہا سال تک دیکھا ہے کہ میری ماں صبح اٹھ کر پہلے میرے باپ کے لیے میٹ بناتیں اور اس کو کھانے کی میز پر رکھ دیتیں۔ اس کے بعد وہ غسل خانہ میں جا کر نہاتیں اور پھر اپنے لیے دال سبزی والا کھانا بناتیں۔ میری ماں اسی طرح آخر عمر تک کرتی رہیں۔ کھانے کے معاملہ میں دونوں کے درمیان اتنا بڑا فرق تھا۔ مگر اس سوال پر دونوں میں کبھی جھگڑا نہیں ہوا۔ دونوں زندگی بھر عزت اور محبت کے ساتھ مل کر رہتے رہے۔ یہی معاملہ ہر فیملی کا ہے۔ ہر فیملی میں کچھ چیزیں مشترک ہوتی ہیں اور کچھ چیزیں غیر مشترک۔ مشترک حصہ سے مراد وہ چیزیں ہیں جو سب سے یکساں طور پر تعلق رکھتی ہیں۔ مثلاً خاندان کی عزت، خاندان کا کاروبار، خاندان کی ترقی، خاندان کا تحفظ۔ یہ وہ چیزیں ہیں جو خاندان کے ہر فرد کا مشترک کنسرن ہوتی ہیں۔ ان چیزوں میں فیملی کے ایک فرد اور فیملی کے دوسرے فرد میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔ خاندانی زندگی کا دوسرا حصہ وہ ہے جو غیر مشترک ہوتا ہے۔ اس میں ہر آدمی اپنے اپنے ذوق پر چلتا ہے۔ یہ غیر مشترک حصہ ہے ۔ کھانا پینا، لباس، تفریحات، شخصی عادتیں، وغیرہ۔ زندگی کا فطری اصول یہ ہے کہ مشترک امور میں تمام افراد کو ایک نقطہ نظر کا پابند کیا جائے۔ مگر غیر مشترک امور میں ہر ایک کو آزادی دے دی جائے کہ وہ اپنی ذاتی پسند سے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader