Urdu book · وطن سے محبت: اسلامی فکر کی روشنی میں

مادر وطن کہنا

Urdu book, p. 35

By Maulana Wahiduddin Khan

کو غیر ضروری طور پر شرعی مسئلہ بنانا ہے۔ یہ انتہا پسندی (extremism) ہے کہ ہر چیز کو جائز یا نا جائز کا مسئلہ بنایا جائے۔ اس مزاج کو شریعت میں غلو کہا گیا ہے، اور قرآن و سنت میں غلو کی ممانعت کی گئی ہے۔ ایک مرتبہ صحابی رسول وابصہ الاسدی رسول اللہ کے پاس آئے۔ وہ بہت سا سوال کرنا چاہتے تھے۔ رسول اللہ نے ان کے سوالوں کا جواب نہیں دیا۔ بلکہ یہ کہا: اِسْتَفْتِ قَلْبَکَ (مسند احمد، حدیث نمبر 18006)۔ یعنی، اپنے دل سے فتویٰ پوچھو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر بات کو شرعی مسئلہ نہ بناؤ۔ بلکہ اپنی فطرت کی آواز کی پیروی کرو۔ جو لوگ انڈیا کو مادر وطن کہتے ہیں۔ وہ اس معنی میں نہیں کہتے کہ وہ اسی جغرافیہ کے بطن سے پیدا ہو کر نکلے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ استعارہ (metaphor) کی زبان ہے۔ اصل یہ ہے کہ مادر وطن سے مراد وہی چیز ہے، جس کو دوسرے الفاظ میں مسقط الراس، مقام پیدائش (home land)، برتھ پلیس (birth place)، وغیرہ، کہا جاتا ہے۔ اگر بالفرض کچھ لوگ مادر وطن کا لفظ اس معنی میں بولیں کہ وہ وطن کے پیٹ سے اسی طرح پیدا ہوئے ہیں، جس طرح کوئی شخص ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتا ہے۔ تو یہ ان کا اپنا معاملہ ہوگا، نہ کہ آپ کا معاملہ۔ آپ مادر وطن کا لفظ اپنے مفہوم میں بولیے۔ دوسرے لوگوں کو چھوڑ دیجیے کہ وہ کس معنی میں اس لفظ کا استعمال کرتے ہیں۔ یہ بھی زندگی کی ایک حکمت ہے کہ کسی بات کو اس کی منطقی حد (logical end) تک نہ پہنچایا جائے۔ بلکہ اس کو معروف مفہوم کے اعتبار سے لیا جائے۔ مادر وطن (بھارت ماتا) کی اصطلاح انیسویں صدی کے آخری زمانے میں شروع کی گئی۔ یہ آزادی کی تحریک چلانے والے لیڈروں نے سیاسی مقصد کے تحت استعمال کیا تھا۔ اس اصطلاح کا کوئی مذہبی پس منظر نہیں۔ (الرسالہ، ستمبر 2016)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page