وطن سے محبت: اسلامی فکر کی روشنی میں
Urdu book, p. 34
By Maulana Wahiduddin Khan
والے چار بھائی خاندان کے مشترک مفاد کے معاملہ میں تو ایک مشترک طرزِ فکر کے حامل ہوتے ہیں ۔ مگر ذاتی دائرہ میں چاروں بھائیوں کا مزاج اور چاروں بھائیوں کی پسند الگ الگ بن جاتی ہے۔ معلوم ہوا وہ چیز جس کو ہم انڈین نیشن کہتے ہیں، اس کے دو دائرے ہیں ۔ ایک دائرہ میں یکسانیت مطلوب ہے اور دوسرے دائرہ میں تنوع ۔ یکسانیت والے دائرہ میں تفرق برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ مگر تنوع والے دائرہ کا معاملہ اس سے مختلف ہے ۔ یہاں کامیاب زندگی حاصل کرنے کا راز صرف ایک ہے، اور وہ ہے ایک دوسرے کے درمیان فرق کوٹالریٹ کرنا ۔ پہلے معاملہ میں اگر ”من تو شدم تو من شدی“ کا اصول کارفرما ہے تو دوسرے معاملہ میں Let us agree to disagree کا اصول ۔ ہندستانی قومیت کی کامیاب تعمیر اسی وقت ممکن ہے جب کہ ان دونوں حصوں کے فرق کو سمجھتے ہوئے ہر ایک کی صحیح رعایت کی جائے ۔ پہلے دائرہ میں علاحدگی پسندی اتنی ہی بری چیز ہے جس کو قومی غداری کہا جائے تو دوسرے دائرہ کے معاملہ میں برعکس طور پر Walt Whitman کا یہ قول صادق آتا ہے کہ میں اتنا زیادہ وسیع ہوں کہ ان تمام تضادات کو اپنے اندر سموسكوں : I am large enough to contain all these contradictions. (الرساله فروری، 1995) مادر وطن کہنا ایک صاحب نے ای میل کے ذریعے یہ سوال کیا کہ انڈیا کو مادر وطن کہنا جائز ہے یا ناجائز۔ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ مادر وطن کو جائز یا نا جائز کی اصطلاح میں بیان کرنا اس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader