Urdu book · وطن سے محبت: اسلامی فکر کی روشنی میں

وطن سے محبت: اسلامی فکر کی روشنی میں

Urdu book, p. 39

By Maulana Wahiduddin Khan

(1973-1940) اور مسٹر آرن شوری نے لکھا ہے کہ ایک گڈ مسلم کبھی گڈ انڈین نہیں بن سکتا۔ یہ سوچتے ہوئے بے اختیار میری آنکھوں سے آنسو نکل آئے کہ یہ لوگ انسان کو کتنا کم جانتے ہیں۔ ان سے کہیں زیادہ انسان سے واقف انیسویں صدی کا امریکی شاعر والٹ وٹ مین (Walt Whitman) تھا جس نے کہا کہ : I am large enough to contain all these contradictions. میں یہ کہہ رہا تھا اور رو رہا تھا کہ خدا میں ایک گڈ مسلم ہوں اور اسی کے ساتھ میں گڈ انڈین بھی ہوں۔ یہ میری شرافت انسانی کی توہین ہے کہ یہ کہا جائے کہ میں جس ملک میں پیدا ہوا، اس کا میں اچھا شہری نہیں ہوں۔ وطن کی محبت ایک خالص فطری جذبہ ہے۔ اور جس چیز کی جڑیں خود فطرت انسانی میں ہوں اس سے کوئی انسان کبھی خالی نہیں ہو سکتا۔ میں نے اپنے دل میں کہا کہ اگر مہاتما گاندھی پیدا ہوں اور کہیں کہ میں تم کو گڈ انڈین ہونے کا سرٹیفیکیٹ دیتا ہوں تو میں ایسا سرٹیفیکیٹ لینے سے انکار کر دوں گا۔ میں کہوں گا کہ کیا کسی بیٹے کو اس کی ضرورت ہے کہ وہ اپنی ماں کا اچھا بیٹا بننے کے لیے کسی اور کا سرٹیفیکیٹ حاصل کرے۔ بخدا میں کسی گرو گولوالکر یا کسی گاندھی کے سرٹیفیکیٹ کے بغیر ہی ایک گڈ انڈین ہوں۔ انڈیا کی محبت میں نکلنے والے میری تنہائیوں کے آنسو جن کو دیکھنے والا کوئی نہیں ہوتا وہ بذات خود اس کے لیے کافی ہیں کہ میں اپنے آپ کو پورے معنی میں ایک گڈ انڈین سمجھوں۔ (پونہ کا سفر، نومبر 1996) سچی حب الوطنی اسلام کی تاریخ میں صلح حدیبیہ نام ہے اسٹیٹس کو پر راضی ہونے کا اور نزاعی امور میں یہی واحد قابل عمل طریقہ ہے کہ آدمی اسٹیٹس کو (status quo) پر راضی ہو جائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page