Urdu book · وطن سے محبت: اسلامی فکر کی روشنی میں

وطن سے محبت: اسلامی فکر کی روشنی میں

Urdu book, p. 40

By Maulana Wahiduddin Khan

راحت ابرار صاحب (علی گڑھ) خورشید احمد صاحب (بمبئی) اور دوسرے کئی مسلمانوں سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ میں نے ہندوؤں کی کئی مجلسوں اور میٹنگوں میں کئی بار یہ کہا جاتا ہے کہ مسلمان اچھا انڈین نہیں ہوسکتا۔ یہ ایک بے اصل بات ہے۔ میں پورے معنوں میں ایک مسلمان ہوں۔ اس کے باوجود پورے معنوں میں ایک اچھا انڈین ہوں۔ پھر میں نے کہا کہ اگر میں اچھا انڈین نہیں ہوں تو مہاتما گاندھی بھی اچھے انڈین نہیں تھے۔ میں نے مزید کہا کہ مجھے اچھا انڈین بننے کے لیے کسی گرو گولوالکر کے سرٹیفیکٹ کی ضرورت نہیں۔ ایسے کسی سرٹیفیکٹ کے بغیر میں ایک اچھا انڈین ہوں۔ ان لوگوں سے میں نے مزید یہ کہا کہ ہندوؤں کے سامنے یہ کہنے کی جرأت مجھے اس لیے ہوتی ہے کہ مجھے انڈیا سے سچی محبت ہے۔ میں پورے معنی میں ایک محب وطن ہوں۔ مثلاً ایک مسلم ملک اور انڈیا کا کسی میدان میں آمنا سامنا ہو تو میں دل سے چاہوں گا کہ مسلم ملک کے مقابلے میں انڈیا کو جیت حاصل ہو۔ (ڈائری ، 14 نومبر 1996) احساس وطینت ڈاکٹر حمید اللہ ندوی بھوپال یونیورسٹی میں عربی کے شعبہ میں استاد ہیں۔ وہ دہلی آئے۔ ایک گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ موجودہ زمانہ کی نااہل مسلم قیادت نے ایک خطرناک کام یہ کیا ہے کہ اپنی بے حقیقت باتوں سے انھوں نے ہندوستان کے مسلمانوں سے احساس وطینت چھین لیا۔ یہاں کے مسلمانوں کا حال اب یہ ہے کہ وہ صحیح معنوں میں ہندوستان کو اپنا وطن نہیں سمجھتے اور وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ دوسرا کوئی ملک انہیں قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اس طرح وہ ذہنی طور پر خود اپنے ملک میں بھی بے جگہ ہو گئے ہیں اور دوسرے ملکوں میں بھی۔ اس ذہنیت نے مسلمانوں کو بے پناہ نقصان پہنچایا ہے۔ (ڈائری ، یکم اکتوبر (1997

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page