Urdu book · وطن سے محبت: اسلامی فکر کی روشنی میں

وطن سے محبت: اسلامی فکر کی روشنی میں

Urdu book, p. 44

By Maulana Wahiduddin Khan

اس سے مختلف ہے۔ انہی لوگوں کی وہ منفی تحریریں اور منفی تقریریں وہ مسئلہ پیدا کرتی ہیں جس کی بنا پر کٹر ہندوؤں کو یہ کہنے کا موقع ملتا ہے کہ ہندوستان کے مسلمان محب وطن نہیں۔ (ڈائری ، 13 نومبر 2003) برادرانِ وطن کے ساتھ حسنِ سلوک دو صاحبان ملاقات کے لیے آئے۔ یہ مسلمان تھے، اور برطانیہ میں رہتے ہیں۔ گفتگو کے دوران میں نے ان سے کہا کہ مسلمان کو اپنے وطن سے محبت ہونا چاہیے۔ برطانی مسلمانوں کو برطانیہ سے اور امریکی مسلمانوں کو امریکہ سے۔ انھوں نے کہا کہ اگر وہاں کے لوگ ہم سے نفرت کریں، تب بھی ہم ان سے محبت کریں۔ میں نے کہا کہ ہاں۔ پھر میں نے ان کو یہ حدیث سنائی: لَا تَكُونُوا إِمَّعَةً، تَقُولُونَ: إِنْ أَحْسَنَ النَّاسُ أَحْسَنَّا، وَإِنْ ظَلَمُوا ظَلَمْنَا، وَلَكِنْ وَطِّنُوا أَنْفُسَكُمْ، إِنْ أَحْسَنَ النَّاسُ أَنْ تُحْسِنُوا، وَإِنْ أَسَاءُوا فَلَا تَظْلِمُوا ( سنن الترمذي، حديث نمبر 2007)۔ یعنی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ اِمَّعہ نہ بنو، یہ کہنے لگو کہ لوگ اچھا سلوک کریں گے تو ہم بھی اچھا سلوک کریں گے۔ اور لوگ ظلم کریں گے تو ہم بھی ان کے ساتھ ظلم کریں گے۔ بلکہ اپنے آپ کو اس کا خوگر بناؤ کہ لوگ اچھا سلوک کریں تب بھی تم اچھا سلوک کرو اور لوگ برا سلوک کریں تو تم ان کے ساتھ ظلم نہ کرو۔ اس سے معلوم ہوا کہ اسلامی اخلاق ٹٹ فار ٹیٹ (tit for tat) کا اخلاق نہیں۔ اسلامی اخلاق یک طرفہ حسنِ سلوک کے اصول پر مبنی ہے۔ (ڈائری،

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page