ایک مثال
Urdu book, p. 43
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک مثال بی بی سی لندن پر ہندی خبروں کے پروگرام کے تحت ہر روز ایک آئٹم ہوتا ہے جس کا مستقل عنوان یہ ہے: بات ایک سفر کی اس آئٹم کے تحت 13 نومبر 2003 کو جو واقعہ بیان کیا گیا وہ یہ تھا۔ سمستی پور (بہار) کے ایک صاحب، مشتاق خان نے بتایا کہ وہ اپنی بہن سے ملنے کے لیے کراچی (پاکستان) گئے۔ یہ سفر انھوں نے ستمبر 1991 میں کیا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ وہ واگہ بارڈر سے ٹرین کے ذریعہ روانہ ہوئے۔ جب وہ پاکستانی سرحد (اٹاری) پر پہنچے تو بعض مسافروں نے بتایا کہ موجودہ پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف نے اعلان کیا ہے کہ ہندوستان سے آنے والے مسافروں کی کسٹم کی چیکنگ نہیں کی جائے گی۔ یہ سن کر مشتاق خان صاحب بہت خوش ہوئے۔ مگر جب 11 ستمبر 1991 کو ان کی ٹرین لاہور ریلوے اسٹیشن پر پہنچی تو معاملہ بالکل مختلف تھا۔ یہاں کسٹم کا سرکاری عملہ ان لوگوں کے اوپر ٹوٹ پڑا اور نہایت سختی کے ساتھ ان کی جانچ کرنے لگا۔ مشتاق خان صاحب نے پریشان ہو کر کچھ کہا تو کسٹم کا ایک آدمی ان پر برس پڑا۔ اس نے تحقیری انداز میں کہا کہ تم تو شکل ہی سے ہندوستانی نظر آتے ہو۔ مشتاق خاں صاحب نے اس کا جواب ان الفاظ میں دیا کہ ہم ہندوستانیوں کے چہرے سے نور ٹپکتا ہے، اور تم پاکستانیوں کے چہرے سے پھٹکار ٹپکتی ہے۔ یہ واقعہ ہندوستان کے عام مسلمانوں کے جذبات کو بتاتا ہے۔ عام مسلمان جو ہندوؤں کے ساتھ مل جل کر رہتے ہیں ان کے دلوں میں ہندوستان کے بارے میں اسی قسم کے جذبات ہیں۔ مگر مسلمانوں کے نام نہاد لیڈر اور مسلمانوں کی نام نہاد اردو صحافت کا معاملہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader