قومی شعور اور وطن کی تعمیر
Urdu book, p. 47
By Maulana Wahiduddin Khan
قومی شعور اور وطن کی تعمیر دیش کی ترقی کے لیے بلاشبہ ایک پروگرام درکار ہے۔ مگر پروگرام سے پہلے وہ افراد درکار ہیں جو اس پروگرام کو دل کی آمادگی کے ساتھ اختیار کریں۔ میں نے کہا کہ اس وقت ہندوؤں اور مسلمانوں میں یہ شعور پیدا کرنے کی ضرورت ہے کہ اختلافات ہر سماج میں ہمیشہ موجود رہتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ اختلاف اور شکایت کے باوجود مل جل کر رہنا سیکھیں۔ ہمارے دیش کے مسئلہ کا حل وہی ہے جو کسی نے کہا کہ اختلافی باتوں کو پرامن طور پر طے کر لینا: Peaceful resolution of conflicts. اس مقصد کے لیے ہمیں intensive awareness programme جاری کرنا ہوگا۔ (سیوا گرام کا سفر، مارچ 1993) اتحاد اور ایثار بھارت وکا س پر یشد کی دعوت پر 31 مارچ 1995 کو بھیل واڑہ ، راجستھان کا سفر ہوا۔ یہ ایک غیر سیاسی ادارہ ہے۔ یہ لوگ تعمیری کاموں میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان کا مٹو ہے: راشٹر نرمان۔ ویکتی نرمان۔ یعنی، فرد کی تعمیر سے ملک کی تعمیر ہوتی ہے۔ ان کے پروگراموں کے چار اجزاء یہ ہیں: سیوا، سنسکار، سہیوگ، سمپرک۔ سوچنا کیندر (انفارمیشن سنٹر) میں نوجوانوں کی ایک میٹنگ ہوئی۔ تمہیدی تقریروں کے بعد مجھے موقع دیا گیا۔ میں نے اپنے خطاب میں کہا کہ دو باتیں اگر ہمارے اندر آ جائیں تو ملک کی ترقی کو کوئی روک نہیں سکتا۔ آج کل یہ حال ہے کہ لوگ دیش سے صرف لینا جانتے ہیں، دیش کو دینا نہیں جانتے۔ یہ مزاج نہ صرف ملک کے لیے نقصان دہ ہے، بلکہ طویل

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader