Urdu book · وطن سے محبت: اسلامی فکر کی روشنی میں

وطن سے محبت: اسلامی فکر کی روشنی میں

Urdu book, p. 48

By Maulana Wahiduddin Khan

مدت کے اعتبار سے خود افراد کے لیے نقصان کا باعث ہے۔ ہمیں یہ کرنا ہوگا کہ ذاتی مفاد کے مقابلہ میں دیش کے مفاد کو اونچا رکھیں ۔ دوسری چیز یہ ہے کہ اس ملک کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہند ومسلم جھگڑا ہے۔ یہ جھگڑا تمام تر غلط نہی پر مبنی ہے۔ ایمرجنسی کے زمانہ میں جب ہندوؤں اور مسلمانوں کو گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا گیا اور وہاں دونوں ایک ساتھ رہے تو ہر ایک نے محسوس کیا کہ ایک دوسرے کے بارے میں ان کے خدشے بے بنیاد تھے۔ ہندوؤں اور مسلمانوں میں اگر کسی طرح صرف اختلاط بڑھ جائے تو تمام غلط فہمیاں اپنے آپ ختم ہو جائیں گی ۔ (راجستھان کا سفر) سوال و جواب سوال آپ کا ایک خط ’ماہنامہ تذکیر‘ کے مئی 2004 (نیز الرسالہ، مئی 2004) کے شمارے میں شائع ہوا ہے جو آپ نے عبد السلام اکبانی صاحب (ناگپور) کو لکھا ہے۔ اس میں آپ نے اُس تقریر کا حوالہ دیا ہے جو آپ نے دہلی میں کانسٹی ٹیوشن کلب کے ایک سیمینار میں کی۔ اس میں آپ نے دو قومی نظریے کو علامہ اقبال اور جناح صاحب کے ذہن کی پیداوار قرار دیا اور یہ دلیل دی کہ ہر پیغمبر نے اپنے زمانے کے لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے ”اے میری قوم“ کہا۔ یعنی حاضرین کا عقیدہ یا مذہب چاہے الگ الگ ہو، ایک بستی یا ایک جغرافیائی وحدت میں رہائش پذیر ہونے کی وجہ سے وہ ایک قوم تھے۔ اس سلسلے میں بندہ کچھ عرض کرنے کی جسارت کرتا ہے۔ قرآن تو جگہ جگہ ایمان والوں کو يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا (اے ایمان والو) اور کفر والوں کو يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ (اے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page