Urdu book · وطن سے محبت: اسلامی فکر کی روشنی میں

سوال و جواب

Urdu book, p. 49

By Maulana Wahiduddin Khan

کافرو) کہہ کر پکارتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ کیا مومن اور فاسق برابر ہو سکتے ہیں۔ پھر قرآن خود جواب دیتا ہے ہرگز نہیں (32:18)۔ وہ کہتا ہے تم جس کو پوجتے ہو اُس کو ہمارا رسول نہیں پوجتا اور جس کو وہ پوجتا ہے اُس کو تم نہیں پوجتے۔ ہمارے رسول اور اس کے ساتھیوں کا اپنا دین خالص، اور تمہارے لیے تمہارا دین (الکافرون، 6: 1-109)۔ قرآن کہتا ہے کہ مسلمین اور مجرمین کو کیا ہم ایک سطح پر رکھیں؟ تمہیں کیا ہو گیا کیسا غلط گمان ہے تمہارا (68:35-36)۔ قرآن میں اللہ کافروں کو حِزْبُ الشَّیْطٰن کہتا ہے اور مومنوں کو حِزْبُ الله کہہ کر ان کو انعام کی بشارت دیتا ہے (22, 58:19)۔ اور سورہ التوبہ میں اعلان کرتا ہے کہ مشرکین نجس ہیں اور یہ جو اپنے آپ کو حرم کعبہ کا متولی سمجھتے تھے ان کو اگلے سال سے حرم کعبہ کے قریب بھی نہ آنے دینا (9:28) اور جو ایمان نہیں لاتے ان سے قتال کریں۔ اور آپ ہیں کہ کافروں اور مومنوں کو ایک ہی قوم ثابت کرنے کی سعی لاحاصل میں ہلکان ہو رہے ہیں۔ (محمد صدیق، اسلام آباد) جواب 1۔ قرآن سے جب یہ ثابت ہو جائے کہ پچھلے نبیوں نے اپنے غیر مسلم مخاطبین سے کہا تھا کہ :”اے میری قوم“ (11:89)۔ تو یہی اُسوہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اُسوہ قرار پائے گا۔ کیوں کہ قرآن میں رسول اللہ کو خطاب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ تم بھی وہی کرو جو پچھلے انبیانے کیا: فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهُ (6:90)۔ یعنی ، پس تم بھی ان کے طریقہ پر چلو۔ روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عملاً بھی یہی کیا۔ چنانچہ غزوہ اُحد کے موقع پر آپ کے مخالفین نے آپ کے اوپر پتھر مارا جو آپ کے چہرے پر لگا۔ اس سے آپ کے چہرے سے خون جاری ہو گیا۔ اُس وقت آپ نے ایک پچھلے رسول

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page