ایک سینئر سٹیزن کی زبانی
Urdu book, p. 55
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ ہے کہ فطرت کو آزادانہ طور پر کام کرنے کا موقع دیا جائے۔ اس کے سوا ہر دوسرا اصول انسان کا خود ساختہ اصول ہوگا، جو کبھی عمل میں آنے والا نہیں۔ یہی ماڈل نیچرل ماڈل ہے۔ کمپیٹیشن کا ماڈل مائیوٹیئنگ ماڈل (motivating model) ہے۔ اس کے برعکس، نہرو نے رشین ماڈل کو اختیار کیا، جس کو وہ سوشلسٹ ماڈل کا نام دیتے تھے۔ مگر عملاً یہ ماڈل ڈی مائیوٹیئنگ ماڈل (demotivating model) ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اس ماڈل کو اختیار کریں، جو مائیوٹیئشن پر مبنی ہے، اور اس ماڈل کو مکمل طور پر چھوڑ دیں، جو عملاً ڈی مائیوٹیئشن کا ماڈل بن جاتا ہے۔ اب آخری وقت آگیا ہے کہ ہم انڈیا کے ڈیویلپمنٹ کی ری پلاننگ کریں۔ انڈیا میں امریکا کے سابق سفیر جان گالبرتھ (John Kenneth Galbraith, 1908-2006) نے ایک مرتبہ اپنے ایک بیان میں کہا تھا— انڈیا یا ایک فنکشننگ انارکی ہے (India is a functioning anarchy)۔ میں اس بیان کوکریٹیسزم کے طور پر نہیں لیتا، بلکہ چیلنج کے طور پر لیتا ہوں، اور یہ دعا کرتا ہوں کہ انڈیا یا ایک آئیڈیل ڈیموکریسی بنے۔ (الرسالہ، اکتوبر، 2020)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader