ایک سینئر سٹیزن کی زبانی
Urdu book, p. 54
By Maulana Wahiduddin Khan
آخری وقت آگیا ہے کہ ہم آزاد انڈیا کی حیثیت سے اپنا رخ متعین کریں۔ یومِ آزادی ہمارے لیے ٹرینڈ سیٹر (trend-setter) ہونا چاہیے۔ موجودہ سال، یعنی 2020ء، کو ہمیں ٹرینڈ سیٹر سال کے طور پر منانا چاہیے۔ سوچ سمجھ کر ہمیں آخری طور پر یہ طے کرنا چاہیے کہ آزادنیشن کی حیثیت سے ہمارا نشانہ کیا ہے۔ سوامی وویکانندا نے کہا تھا کہ انڈیا کے بارے میں ان کا خواب یہ ہے کہ آزادی کے بعد انڈیا یا سپر پھول سوپر پاور بن کر ابھرے۔ انڈیا پوٹینشل طور پر بلاشبہ اسپر پھول سوپر پاور ہے۔ اس پوٹینشل کو ایکچول بنانے کے لیے صرف ایک چیز کی ضرورت ہے، اور وہ ہے جمہوری نظام کے تحت متحد ہو کر کوشش کرنا۔ میں 90 پلس ہوں، اس لحاظ سے مجھے زندگی کا لمبا تجربہ ہوا ہے۔ میں اپنے تجربے کی روشنی میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ انڈیا کے ڈیولپمنٹ کے لیے صرف ایک ہی ورکیبل ماڈل ہے۔ وہ وہی فطری ماڈل ہے، جس کو امریکن ماڈل کہا جا سکتا ہے۔ امریکن ماڈل فری کمپیٹیشن پر بیس (base) کرتا ہے، یعنی ایسا ماحول پیدا کرنا، جس میں میرٹ کی بنیاد پر کسی کو ترقی حاصل ہو، نہ کہ فیور (favour) کی بنیاد پر۔ ترقی کے لیے اصل چیز کمپیٹیشن ہے، نہ کہ فیور۔ امریکہ میں ہر میدان میں یہ اصول ہے کہ کمپیٹ یا پیرش (compete or perish)، یعنی مقابلہ کرو، یا ختم ہو جاؤ۔ عام زبان میں اس کو کرو یا مرو (do or die) کہا جاتا ہے۔ فطرت کے قانون کے مطابق، اس دنیا میں کوئی گروہ فیور (favour) کے ذریعے ترقی نہیں کر سکتا۔ وہ صرف مقابلہ (competition) میں اپنے آپ کو اہل ثابت کر کے کامیاب ہو سکتا ہے۔ یہ کمپیٹیشن ہے، جو انسان کو مین (man) سے اٹھا کر سوپر مین (super-man) بناتی ہے۔ کیوں کہ خالق نے اس دنیا کو چیلنج ۔ رسپانس (challenge-response) کے اصول پر بنایا ہے۔ فرد کی ترقی یا سماج کی ترقی کا راز

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader