Urdu book · وطن سے محبت: اسلامی فکر کی روشنی میں

تمہید

Urdu book, p. 5

By Maulana Wahiduddin Khan

صحیح البخاری کے شارح ابن بطال (وفات 449ھ) لکھتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت میں وطن سے محبت اور اس کی چاہت رکھ دی ہے۔ اور نبی ﷺ نے بھی ایسا کیا۔ اور آپ کا عمل اس معاملہ میں بہترین نمونہ ہے۔ (شرح صحیح البخاری، جلد 4، صفحہ 453) یہ بات درست ہے کہ قرآن وحدیث سے براہ راست طور پر ایسا کوئی حکم نہیں ملتا ہے کہ وطن سے محبت کرنی چاہیے، لیکن بالواسطہ طور پر متعدد حکم ثابت ہیں، جو وطن سے محبت کی اہمیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ امام ذہبی نے اپنی کتاب میں ان چیزوں کی فہرست دی ہے، جن سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم محبت کرتے تھے۔ ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آپ اپنے وطن سے محبت کرتے تھے: وَيُحِبُّ وَطَنَهُ (سير أعلام النبلاء، جلد 15، صفحہ 394)۔ حدیث کی کتابوں میں ایک مسنون دُعا ان الفاظ میں آئی ہے: اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَحُبِّنَا مَكَّةَ أَوْ أَشَدَّ (صحیح بخاری، حدیث نمبر 1889؛ صحیح مسلم، حدیث نمبر 1376)۔ یعنی، اے اللہ! ہمیں مدینہ سے اسی طرح محبت دے جیسے تُو نے ہمیں مکہ سے محبت دی ہے۔ اس حدیث میں گویا اس بات کا اشارہ ہے کہ ہر انسان کو اپنی جائے پیدائش اور جائے عمل سے محبت کی دعا کرنی چاہیے۔ اسی طرح حدیث کی کتابوں میں آتا ہے کہ جب آپ سفر سے واپس آتے، اور مدینہ کی دیواروں کو دیکھتے تو مدینہ کی محبت کے تحت (مِنْ حُبِّهَا) اپنی سواری تیز فرمادیتے (صحیح بخاری، حدیث نمبر 1886)۔ صرف وطن سے نہیں، بلکہ وطن سے تعلق رکھنے والی چیزوں سے بھی محبت ہونی چاہیے۔ مثلاً احد کا پہاڑ مدینہ کے لیے قدرتی ڈھال کا کام کرتا تھا، آپ نے احد پہاڑ کے لیے فرمایا: هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 2889)۔ یعنی، یہ پہاڑ ہم سے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page