تمہید
Urdu book, p. 6
By Maulana Wahiduddin Khan
محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ احادیث وطن سے جڑے گہرے جذبات اور اخلاقی اقدار کو نمایاں کرتی ہیں۔ شارحین حدیث نے بھی ان کی اہمیت پر زور دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ یہ احادیث وطن سے محبت اور تعلق کو جائز قرار دینے کی دلیل ہیں (عمدة القاري للعینی، جلد 10، صفحہ 135؛ فتح الباری لابن حجر، جلد 3، صفحہ 621)۔ برصغیر کے معروف محدث اور فقیہ مولانا زکریا کاندھلوی (1982-1898) نے اس کو مزید واضح کیا ہے کہ ”اسی طرح کا حکم مدینہ کے سوا ان تمام شہروں، علاقوں اور وطنوں کے بارے میں بھی ہے جن کی طرف میلان ہو اور جو محبوب ہوں“: كَذٰلِكَ الْحُكْمُ فِي غَيْرِ الْمَدِينَةِ مِنَ الدِّيَارِ الْمَرْغُوبَةِ فِيهَا، وَالْأَوْطَانِ الْمَحَبَّبَةِ فِيهَا (اللامع الدراری، جلد 5، صفحہ 279)۔ اسلامی تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ایسا نہیں ہے کہ یہ سلسلہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ختم ہو گیا، بلکہ بعد میں آنے والے متعدد علما، صوفیا اور شعرا کی تحریروں میں بھی اسی جذبے کی بازگشت ملتی ہے۔ مثلاً اسلامی تاریخ کے مشہور زاہد اور صوفی بزرگ ابراہیم بن ادہم (وفات 160 ہجری) سے منقول ہے: مَا قَاسَيْتُ فِيمَا تَرَكْتُ شَيْئًا أَشَدَّ عَلَيَّ مِنْ مُفَارَقَةِ الْأَوْطَانِ (حليت الاولياء، جلد 7، صفحہ 380)۔ یعنی، میں نے جن چیزوں کو چھوڑا، اُن میں سے کسی چیز کی تکلیف مجھ پر اتنی شدید نہ تھی جتنی وطن کی جدائی۔ علامہ راغب اصفہانی پانچویں صدی ہجری (11 ویں صدی عیسوی) کے مشہور مسلم عالم، مفسر اور عربی زبان کے ماہر تھے۔ انھوں نے اپنی کتاب محاضرات الادباء (جلد دوم، صفحہ 652) میں وطن کی محبت کے موضوع پر دو مستقل عناوین قائم کیے ہیں۔ اس کتاب

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader