دعا آدمی کی پوری ہستی سے نکلتی ہے
Urdu book, p. 10
By Maulana Wahiduddin Khan
دعا آدمی کی پوری ہستی سے نکلتی ہے نہ کہ محض زبانی الفاظ سے حضرت مسیح نے اپنے ایک وعظ میں فرمایا: مانگو تو تم کو دیا جائے گا۔ ڈھونڈو تو پاؤ گے۔ دروازہ کھٹکھٹاؤ تو تمھارے واسطے کھولا جائے گا۔ کیوں کہ جو کوئی مانگتا ہے اسے ملتا ہے۔ اور جو ڈھونڈتا ہے وہ پاتا ہے، اور جو کھٹکھٹاتا ہے اس کے واسطے کھولا جائے گا۔ تم میں ایسا کون آدمی ہے کہ اگر اس کا بیٹا اس سے روٹی مانگے تو وہ اس کو پتھر دے۔ یا اگر مچھلی مانگے تو اس کو سانپ دے۔ پس جب کہ تم برے ہو کر اپنے بچوں کو اچھی چیزیں دینا جانتے ہو تو تمھارا باپ جو آسمان پر ہے اپنے مانگنے والوں کو اچھی چیزیں کیوں نہ دے گا۔ (متی، ۷ : ۷ - ۱۲) یہ ایک حقیقت ہے کہ خدا سے مانگنے والا کبھی محروم نہیں ہوتا۔ مگر مانگنا صرف کچھ لفظوں کو دہرانے کا نام نہیں ہے۔ مانگنا ہی مانگنا ہے جس میں آدمی کی پوری ہستی شامل ہو گئی ہو۔ ایک شخص زبان سے کہہ رہا ہو "خدایا مجھے اپنا نا لے" مگر علاوہ اپنی ذات کا بنار ہے، تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس نے مانگا ہی نہیں۔ اس کو جو چیز ملی ہوئی ہے، وہی در اصل اس نے خدا سے مانگی تھی۔ خواہ زبان سے اس نے جو لفظ بھی ادا کئے ہوں۔ ایک بچہ اپنی ماں سے روٹی مانگے تو یہ ممکن نہیں کہ ماں اس کے ہاتھ میں انگارہ رکھ دے۔ خدا اپنے بندوں پر تمام مہربانوں سے زیادہ مہربان ہے۔ یہ ممکن نہیں کہ آپ خدا سے خشیت مانگیں اور وہ آپ کو قساوت دیدے۔ آپ خدا کی یاد مانگیں اور وہ آپ کو خدا فراموشی میں مبتلا کر دے۔ آپ آخرت کی تڑپ مانگیں اور وہ آپ کو دنیا کی محبت میں ڈال دے۔ آپ کیفیت سے بھری ہوئی دینداری مانگیں اور وہ آپ کو بے روح دین داری میں ڈار پنے دے۔ آپ حق پرستی مانگیں اور وہ آپ کو شخصیت پرستی کی کوٹھری میں بند کر دے۔ آپ کی زندگی میں آپ کی مطلوب چیز کا نہ ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ نے ابھی تک اس کو مانگا ہی نہیں۔ اگر آپ کو دودھ خریدنا ہو اور آپ مچھلی لے کر بازار جائیں تو پیسے خرچ کرنے کے بعد بھی آپ خالی ہاتھ واپس آئیں گے۔ اسی طرح اگر آپ زبان سے دعا کے کلمات دہرارہے ہوں مگر آپ کی اصل ہستی کسی دوسری چیز کی طرف متوجہ ہو تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ آپ نے مانگا تھا اور نہ آپ کو ملا۔ جو مانگے وہ کبھی پائے بغیر نہیں رہتا۔ یہ مالک کائنات کی غیرت کے خلاف ہے کہ وہ کسی بندے کو اس حال میں رہنے دے کہ قیامت میں جب خدا سے اس کا سامنا ہو تو وہ اپنے رب کو حسرت کی نظر سے دیکھے۔ دہ کہے کہ خدایا میں نے تجھ سے ایک چیز مانگی تھی مگر تو نے مجھے نہ دی۔ بخدا یہ نا ممکن ہے، یہ نا ممکن ہے۔ یہ نا ممکن ہے۔ کائنات کا مالک تو ہر صبح و شام اپنے تمام خزانوں کے ساتھ آپ کے قریب آ کر آواز دیتا ہے ــــــ " کون ہے جو مجھ سے مانگے تاکہ میں اسے دوں " مگر جنھیں لینا ہے وہ اندھے بہرے بنے ہوئے ہوں تو اس میں دینے والے کا کیا قصور۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader