Urdu book · زلزلۂ قیامت

دعا آدمی کی پوری ہستی سے نکلتی ہے

Urdu book, p. 11

By Maulana Wahiduddin Khan

” میرے لئے ایک سائیڈ خرید دیجئے “ بیٹے نے باپ سے کہا۔ باپ کی آمدنی کم تھی۔ وہ سائیل خریدنے کی پوزیشن میں نہ تھا۔ اس نے ٹال دیا۔ لڑکا بار بار کہتار ہا اور باپ بار بار منع کر تار ہا۔ بالآخر ایک روز باپ نے ڈانٹ کر کہا ” میں نے کہہ دیا کہ میں سائیل نہیں خریدوں گا۔ اب آئندہ مجھ سے اس قسم کی بات مت کرنا۔“ یہ سن کر لڑکے کی آنکھوں میں آنسو آ گئے ۔ وہ کچھ دیر چپ رہا۔ اس کے بعد روتے ہوئے بولا: ” آپ ہی تو ہمارے باپ ہیں۔ پھر آپ سے نہ کہیں تو اور کس سے کہیں ؟“ اس جملہ نے باپ کو تڑ پا دیا۔ اچانک اس کا انداز بدل گیا۔ اس نے کہا : اچھا بیٹے اطمینان رکھو میں تمھارے لئے سائیل خرید دلوں گا۔ اور کل ہی خرید دوں گا“ یہ کہتے ہوئے باپ کی آنکھوں میں بھی آنسو آگئے ۔ اگلے دن اس نے پیسیہ کا انتظام کر کے بیٹے کے لئے نئی سائیل خرید دی۔ لڑکے نے بیٹا ہر ایک لفظ کہا تھا ۔ مگر یہ ایک ایسا لفظ تھا جس کی قیمت اس کی اپنی زندگی تھی، جس میں اس کی پوری ہستی شامل ہو گئی تھی۔ اس لفظ کا مطلب یہ تھا کہ اس نے اپنے آپ کو اپنے سرپرست کے آگے بالکل خالی کر دیا ہے۔ یہ لفظ بول کر اس نے اپنے آپ کو ایک ایسے نقطہ پر کھڑا کر دیا جہاں اس کی درخواست اس کے سر پرست کے لئے بھی اتنا ہی بڑا مسئلہ بن گئی جتنا خود اس کے لئے۔ اس واقعہ سے سمجھا جا سکتا ہے کہ ذکر الہی کی وہ کون سی قسم ہے جو میزان کو بھر دیتی ہے اور جس کے بعد خدا کی رحمتیں بندے کے اوپر امڈ آتی ہیں۔ یہ رٹے ہوئے الفاظ کی تکرار نہیں ہے ۔ نہ اس کا کوئی ” نصاب “ ہے۔ یہ ذکر کی وہ قسم ہے جس میں بندہ اپنی پوری ہستی کو انڈیل دیتا ہے ۔ جب بندے کی آنکھ سے عجز کا زرہ قطرہ ٹپک پڑتا ہے جس کا تحمل زمین و آسمان بھی نہ کر سکیں ۔ جب بندہ اپنے آپ کو اپنے رب کے ساتھ اتنا زیادہ شامل کر دیتا ہے کہ ”بیٹا“ اور ” باپ “ دونوں ایک ترانہ پر آجاتے ہیں ۔ یہ وہ لمحہ ہے جب کہ ذکر محض لغت کا لفظ نہیں ہوتا بلکہ ایک شخصیت کے پھٹنے کی آواز ہوتا ہے ۔ اس وقت خدا کی رحمتیں اپنے بندے پر ٹوٹ پڑتی ہیں۔ بندگی اور خدائی دونوں ایک دوسرے سے راضی ہو جاتی ہیں۔ قادر مطلق عاجز مطلق کو اپنی آغوش میں لے لیتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page