Urdu book · زلزلۂ قیامت

دعا آدمی کی پوری ہستی سے نکلتی ہے

Urdu book, p. 14

By Maulana Wahiduddin Khan

۱۷۰۷ء میں یورپ کے ایک شہر میں تباہ کن زلزلہ آیا۔ چند روز بعد لوگوں نے دیکھا کہ ایک آدمی آواز لگا کر بھونچال روک گولی (Anti-earthquake pill) بیچ رہا ہے۔ کسی نے پوچھا کہ تمھاری یہ گولی بھونچال کو کس طرح روکے گی۔ اس نے فراً جواب دیا : But what is the alternative رہپر دوسری صورت کیا ہے۔ بھونچال روک گولی کا یہ کاروبار اگر چہ آگے نہیں بڑھا۔ وہ محض لطیفہ بن کر رہ گیا۔ مگر عجیب بات ہے کہ سب سے بڑے بھونچال (زلزلہ آخرت) کے لئے لوگوں نے اسی قسم کی گولیاں بنالی ہیں اور نہایت بڑے پیمانے پر اس کا کاروبار ساری دنیا میں ہورہا ہے۔ بھونچال روک گولی کے ایک بہت بڑے مبلغ لکھتے ہیں : "بنی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ دو خصلتیں ایسی ہیں کہ جو مسلمان ان کا اہتمام کرے، جنت میں داخل ہواد دہ دونوں بہت معمولی چیزیں ہیں۔ مگر ان پر عمل کرنے والے بہت کم ہیں۔ ایک یہ کہ سبحان اللہ، الحمد للہ، اللہ اکبر ہر نماز کے بعد دس دس مرتبہ پڑھ لیا کرے تو روزانہ ایک سو پچاس مرتبہ (پانچوں نمازوں کے بعد کا مجموعہ) ہو جائے گا اور دس گنا ہو جانے کی وجہ سے ۱۵۰۰ انگلیاں حساب میں شمار کی جائیں گی۔ اور دوسری چیز یہ کہ سوتے وقت اللہ اکبر ۳۴ مرتبہ ، الحمد لله ۳۳ مرتبہ ، سبحان اللہ ۳۳ مرتبہ پڑھ لیا کرے تو ۔۔ اکلے ہو گئے جس کا ثواب دس گنا بڑھ کر ایک ہزار نیکیاں ہو گئیں۔ اب ان کی اور دن بھر کی نمازوں کے بعد کی میزان کل دو ہزار پانچ سو نیکیاں ہو گئیں۔ بھلا اعمال تولنے کے وقت ڈھائی ہزار برائیاں روزانہ کی کس کی ہوں گی جو ان پر غالب آجائیں “ (۱۳۳) " ایک حدیث میں ارشاد نبوی ہے کہ کوئی شخص تم میں سے اس بات کو نہ چھوڑے کہ ہزار نیکیاں روزانہ کر لیا کرے ۔ سبحان اللہ وبحمدہ سو مرتبہ پڑھ لیا کرے ۔ (دس گنا بڑھ کر) یہ ہزار نیکیاں ہو جائیں گی ۔ اتنے گناہ تو انشا اللہ روزانہ کے ہوں گے بھی نہیں۔ اور اس تسبیح کے علاوہ جتنے نیک کام کے ہوں گے ان کا ثواب علیحدہ نفع میں رہا۔“ (۱۳۶) مغفرت کا معاملہ اگر اس قسم کے سادہ حساب کا معاملہ ہوتا تو صحابہ کا یہ حال نہ ہوتا کہ وہ آخرت کے خوف سے بے قرار رہتے اور یہ کہتے کہ کاش میں ایک تنکا ہوتا ، کاش میں ایک درخت ہوتا جو کاٹ دیا جاتا ۔ اس قسم کا عجیب و غریب اسلام اس لئے وجود میں آیا کہ ذکر کو درد کے ہم معنی سمجھ لیا گیا۔ اب گناہ اور ثواب دونوں گنتی کی چیز بن گئے اور یہ ممکن ہو گیا کہ ایک گنتی کی کمی کو دوسری گنتی کی زیادتی سے برابر کر لیا جائے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ذکر کوئی شمار یاتی چیز نہیں ۔ ذکر اپنی شعوری ہستی کا نذرانہ ہے۔ بندہ جب اپنے رب کو اس کی تمام عظمتوں کے ساتھ پالیتا ہے تو اس کا پورا وجود اس کی یاد میں غرق ہو جاتا ہے۔ اسی کا نام ذکر ہے۔ یہ ذکر آدمی کے اندر قناعت یا بے خوفی پیدا نہیں کرتا، بلکہ وہ آدمی کو خوف در دہشت سے بھر دیتا ہے۔ خدا کے جلال و جبروت کی یاد جس کے اندر بے خوفی کی نفسیات پیدا کرے، اس نے خدا کو یادی نہیں کیا۔ اسی لئے قرآن میں کہا گیا ہے کہ بندہ جب خدا کو یاد کرتا ہے تو اس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ بے اختیار پکار اٹھتا ہے۔ خدایا ہم کو آگ کے عذاب سے بچا (رَبَّنَا قِنَا عَذَابَ النَّارِ، آل عمران)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page