Urdu book · زلزلۂ قیامت

دعا آدمی کی پوری ہستی سے نکلتی ہے

Urdu book, p. 13

By Maulana Wahiduddin Khan

ہم میں سے ہر شخص زندگی کے مقابلہ میں موت سے زیادہ قریب ہے۔ یہ احساس اگر زندہ ہو تو آدمی ہر موت کو اپنی موت سمجھے۔ وہ دوسرے کا جنازہ دیکھے تو ایسا معلوم ہو گویا خود اس کی لاش اٹھا کر قبر کی طرف لے جائی جا رہی ہے۔ ۲۴ اگست ۱۹۷۷ء کو دہلی کے اخبارات کا پہلا صفحہ بڑا عبرت ناک تھا۔ اس میں شری بنسی لال کی گرفتاری کی خبر تھی۔ اسی کے ساتھ ایک تصویر تھی جس میں ہندوستان کے سابق وزیر دفاع کو پولیس کی حراست میں دکھایا گیا تھا۔ اپریل ۱۹۷۷ء کے الیکشن میں کانگریس کی شکست سے پہلے جو شخص وزیر اعظم کے بعد ملک کا دوسرا سب سے طاقت ور آدمی سمجھا جاتا تھا، وہ یہاں ہتھکڑی میں بندھا ہوا نظر آ رہا تھا۔ آدمی اگر خدا کی پکڑ سے ڈرتا ہو تو ہر گرفتاری کو وہ اپنی گرفتاری سمجھے دوسرے کے ہاتھ میں ہتھکڑی لگتی ہوئی دیکھے تو اس کو محسوس ہو گویا خود اسی کو باندھا جا رہا ہے کر دیا گیا ہے۔ کل تک وہ وی وی آئی پی (VVIP) تھا آج وہ صرف ایک مجرم ہے ، ایسا مجرم جس کو قانون نے اپنی تمام بے رحمیوں کے ساتھ اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔ موت بھی اسی قسم کی ایک گرفتاری ہے۔ وہ تمام دوسری گرفتاریوں سے زیادہ سخت ہے۔ کیوں کہ وہ زمین و آسمان کے مالک کی طرف سے اس کے بندوں کی گرفتاری ہے۔ گرفتاری کا یہ دن ہر آدمی کی طرف تیزی سے دوڑا چلا آ رہا ہے۔ مگر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ ”بنی لال“ اور ”بھٹو“ کی گرفتاری سے تو خوب واقف ہیں۔ مگر خود اپنی گرفتاری کی انھیں خبر نہیں۔ وہ دوسروں کے پکڑے جانے کا خوب چرچا کرتے ہیں۔ مگر اس دن کو یاد نہیں کرتے جب کہ خدا کے فرشتے خود ان کو اس سے زیادہ بے رحمی کے ساتھ پکڑ کر خدا کی عدالت میں حاضر کر دیں گے۔ جاتا تھا۔ وہ یہاں ، مغربی برلن میں جدوجہد کر رہا ہے۔ اخبار پڑھنے والوں کے لئے یہ کوئی انوکھی خبر نہیں۔ اس قسم کی گرفتاری کی خبریں آئے دن اخبارات میں شائع ہوتی رہتی ہیں جن میں بتایا جاتا ہے کہ ایک شخص جو کل اعلیٰ اختیارات کا مالک تھا۔ آج اس کو ایک معمولی آدمی کی طرح پکڑ کر جیل کی کوٹھری میں بند خدائی گرفتاری کا یہ دن اتنا ہولناک ہے کہ اگر آدمی کو اس کا واقعی احساس ہو جائے تو ہر گرفتاری کو وہ اپنی گرفتاری سمجھے۔ دوسرے کے ہاتھ میں ہتھکڑی لگتی ہوئی دیکھے تو اس کو ایسا محسوس ہو گویا خود اسی کو باندھا جا رہا ہے۔ (۹ مئی ۱۹۷۸)

ہے کہ اس کے ذریعے ہم اپنی زندگی کے ہر شعبے میں بہت سی تبدیلیاں لا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ ہمیں نئے خیالات اور سوچ کے نئے زاویے فراہم کرتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page