ایسی شاندار چیزیں خدا کے یہاں کہاں !
Urdu book, p. 25
By Maulana Wahiduddin Khan
گویا زبان حال سے یہ کہہ رہا ہو " خدا کے یہاں بھلا ایسی شان دار چیزیں کہاں ملیں گی ، پھر کیوں نہ اسی دنیا میں جو کچھ ملے اس کو حاصل کر لیا جائے"۔ سب سے زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ اس سلسلے میں مذہبی لوگوں کا حال بھی وہی ہے جو دوسرے اہل دنیا کا ہے۔ موجودہ زمانے میں جو دنیوی امکانات ان کے لئے کھلے ہیں ان کی طرف دوڑ بھاگ میں وہ دوسروں سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہیں۔ عہدوں اور مناصب کی دھوم ، صدارت و نظامت کے اعزازات ، جلسوں اور جلوسوں کی نمائش، بین الاقوامی کانفرنسوں کے لئے پرواز، ایڈرس اور استقبال کے تماشے، اخبارات کی سرخیوں میں چھپنا اور اسی قسم کی دوسری چیزوں کا شوق ان کو بھی اتناہی ہے جتنا کسی عام دنیا دار کو ہو سکتا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص آخرت پر تقریر کر رہا ہے اس کو بھی آخرت کا یقین نہیں، یا اگر ہے تو بہت کم۔ ایک کامیاب ترین انسان جب موت کے دروازہ پر پہنچتا ہے تو اس کو محسوس ہوتا ہے کہ دروازہ کے دوسری طرف اس کے لئے مایوسی اور بربادی کے سوا کچھ نہیں ہو رڈ ہیوز امریکہ کا ایک ممتاز ترین کی یہ دہشت ناک تصویر اس کیفیت کو مجسم کر رہی ہے جو ایک آدمی ارب پتی تھا۔ اپریل ۱۹۷۶ میں ایک ہوائی سفر کے دوران کی اس وقت ہوتی ہے جب وہ موت کے دروازے پر پہنچ چکا ہو اس پر دل کا حملہ ہوا۔ اس کے ہوائی جہاز کو فورا ہاؤسٹن اس کے پیچھے وہ زندگی ہو جن کی وہ چھوڑ چکا اور آگے وہ زندگی ہو میں آتارا گیا۔ مگر اسپتال پہنچنے سے پہلے وہ ختم ہو چکا تھا۔ جس میں اب وہ ہمیشہ کے لئے داخل ہو جائے گا۔ اس لایا۔ ٹراچسپ پیپ کے پے دقام پوچا اپنے قانون دالں باپ سے اس کو ایک ملین ڈالربطور دراشت ملے تھے، مگر اس نے اپنی غیر معمولی تجارتی صلاحیت سے اپنے سرمایہ کو ۲۰۰ کروڑ ڈالر سے بھی زیادہ بڑھالیا۔ اس کے ہوائی جہاز کا عملہ جو اس کے ساتھ شریک سفر تھا اس نے اس کے آخری لمحات کے بارے میں جو چشم دید تاثرات بیان کئے اس کی بنیاد پر مشہور امریکی آرٹسٹ شرل سالومن نے اس کا خاکه تیار کیا ہے۔ اس خاکہ میں اس کے سفر حیات کے آخری لمحات کو مصور کیا گیا ہے۔ امریکہ کا کامیاب ترین تاجر اس خاکہ میں وحشت ، مایوسی ، بے چاری ناکامی اور بے یقینی کا مجسمہ نظر آتا ہے۔ امریکی تاجر کہ میں اب دوا، میسر کے لیے کا سدہ بھیک مانگتا ہوں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader