Urdu book · زلزلۂ قیامت

اپنے معاملہ میں ہوشیار

Urdu book, p. 26

By Maulana Wahiduddin Khan

اپنے معاملہ میں ہوشیار دوسرے کے معاملہ میں بیوقوف یوگنڈا کے صدر عیدی امین نے وزیر اعظم مرار جی ڈیسائی کو مبارک باد کا خط بھیجا ہے۔ اسی کے ساتھ انھوں نے سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کے نام بھی ایک خط روانہ کیا ہے جس میں اس بات کا شکریہ ادا کیا ہے کہ ان کی حکومت نے ہندوستان اور یوگنڈا کے درمیان اچھے تعلقات قائم رکھے۔ صدر عیدی امین نے اندرا گاندھی کے نام اپنے خط میں لکھا ہے: "میں ذاتی طور پر ان لوگوں سے اتفاق کرتا ہوں جن کی رائے یہ ہے کہ آپ نہایت ذہین لیڈر ہیں کیونکہ اپنی شکست تسلیم کرنے کے فوراً بعد آپ نے اور آپ کی حکومت نے نہایت صحیح وقت پر اکیس ماہ کی ایمرجنسی کو ختم کر دیا جس کو آپ نے نافذ کیا تھا اور جس کے تحت لوگوں کو بغیر عدالتی کارروائی کے قید کیا جا سکتا تھا۔ ایمرجنسی کو ختم کرنے کے بارے میں آپ اور آپ کی حکومت کے اس بروقت اقدام کے بعد ہم نے اطمینان کا سانس لیا، کیونکہ یہ ممکن تھا کہ اسی ایمرجنسی کے قوانین کو نئی حکومت ان لوگوں کے اوپر استعمال کرے جنہوں نے اب اقتدار کھو دیا ہے۔“ اندرا حکومت سے الیکشن کا نتیجہ سامنے آنے سے پہلے ایمرجنسی ہٹانے کے لئے کہا جاتا تھا تو اس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ ایمرجنسی کے جاری رہنے سے کسی کا کیا نقصان ہے۔ مگر ۲۰ مارچ کی شب کو جب الیکشن کے نتائج کا اعلان ہوا تو اس حکومت کو ایمرجنسی کی حقیقت سمجھنے میں ایک منٹ کی دیر نہیں لگی۔ اس نے راتوں رات میٹنگ کر کے ایمرجنسی کے مکمل خاتمہ کا اعلان کر دیا۔ یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اپنے معاملہ میں آدمی کتنا ہوشیار ہوتا ہے اور دوسرے کے معاملہ میں کتنا بے وقوف۔ آج کی دنیا میں جس شخص کا بھی تجربہ کیجئے، تقریباً بلا استثناء آپ پائیں گے کہ وہ اپنے موافق پہلو کو سمجھنے کے لئے انتہائی ذہین ہے۔ اس کے برعکس جب معاملہ دوسرے کے موافق پہلو کو سمجھنے کا ہو تو وہ ایسا بے وقوف بن جاتا ہے، جیسے اس کو کچھ آتا ہی نہیں۔ جیسے کہ وہ اینٹ پتھر ہے نہ کہ انسان۔ ہوشیاری کی یہ قسم آدمی کے اوپر بہت بڑا وبال ہے۔ ایسا کر کے دراصل وہ حاکم حقیقی کے آگے اپنے خلاف خود حجت قائم کر رہا ہے۔ اگر آدمی اپنی باتوں میں بھی بے وقوفی ظاہر کرتا تو شاید وہ خدا کی پکڑ سے بچ جاتا۔ مگر اپنی باتوں میں ہوشیاری اور دوسرے کی باتوں میں بے وقوفی اس کو خدا کی پکڑ سے بچا نہ سکے گی۔ کیونکہ اپنی باتوں میں ہوشیاری دکھا کر وہ ثابت کر چکا ہے کہ دوسرے کی باتوں میں بھی وہ اتنا ہی ذہین اور ہوشیار ہو سکتا تھا۔ کے لئے بھی ایک نمونہ بن گیا ہے۔ اس کے علاوہ اس نے اپنی تحریروں کے ذریعے مسلمانوں میں ایک نیا ولولہ اور جوش پیدا کر دیا ہے۔ اس کی تحریریں مسلمانوں کے لئے مشعل راہ ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page