Urdu book · زلزلۂ قیامت

اپنے معاملہ میں ہوشیار

Urdu book, p. 27

By Maulana Wahiduddin Khan

جو اپنے کو جہنم کے دروازہ پر کھڑا ہوا پائے وہی جنت میں داخل ہوگا۔ جو چپ رہنے لگے اس کو بولنا آگیا جو بے عزتی پر راضی ہو جائے اس نے اپنی عزت کو بچا لیا ۔ جو خاموش آوازوں کو سننے لگے وہی کان والا ہے ۔ جس کو اپنی برائیاں دکھائی دینے لگیں وہی قابل تعریف ہے ۔ جو اپنے سے آغاز کرے وہی دوسروں تک پہنچے گا۔ جو اپنی غلطی کو مان لے وہی صحیح راستہ پر ہے جس کی نظر میں تمام چیزیں بے لذت ہو جائیں اس نے لذت کا راز پالیا۔ جو اپنے کو بے علم جانے وہی علم والا ہے۔ وہی آدمی باشعور ہے جس نے اپنے لاشعور کو جان لیا۔ جو کمزوروں سے ڈرے وہی طاقت ور کی پکڑ سے بچ سکتا ہے۔ جو دوسروں کو دیتا ہے اسی نے اپنے آپ پر خرچ کیا۔ جو اپنے معاملات میں نادان ہو جائے وہی ملت کے معاملات میں ہوشیار ثابت ہو گا ۔ جس کو اپنے منافق ہونے کا اندیشہ ہو وہی ایمان والا ہے ۔ جو کھونے والا ہے اسی نے دراصل پایا ۔ جس کو بارنا آجائے اس کو کوئی ہرا نہیں سکتا ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page