Urdu book · زلزلۂ قیامت

زلزلہ

Urdu book, p. 35

By Maulana Wahiduddin Khan

سرکس ہو رہا تھا۔ تماشائیوں کو طرح طرح کے کھیل دکھائے جارہے تھے۔ اتنے میں ایک "انسان" لوگوں کے سامنے لایا گیا۔ اس نے عجیب عجیب تماشے دکھا کر لوگوں کو خوش کرنا شروع کر دیا۔ ابھی کھیل ختم نہیں ہوا تھا کہ تماشائیوں میں سے ایک شخص نے اس "انسان" کی طرف ایک کنکر پھینک دیا۔ اس کے بعد "انسان" نے ایک زور دار چھلانگ لگائی۔ وہ شاید اپنے حملہ آور تک پہنچنا چاہتا تھا۔ مگر وہ چاروں طرف لگے ہوئے جالیف سے ٹکرا گیا۔ اس کے ٹکراتے ہی اس کے چہرے کا مکھیوٹا (Mask) گر گیا۔ اب معلوم ہوا کہ وہ حقیقتاً ایک جانور تھا جو انسانی بھیں بدلے ہوئے تماشا دکھا رہا تھا۔ سرکس کے اسٹیج پر یہ واقعہ شاید ایک ہی بار پیش آیا ہو۔ مگر انسانی بستیوں میں ایسے واقعات ہر روز سامنے آرہے ہیں۔ لوگ بظاہر انسان جیسے چہروں کے ساتھ چلتے پھرتے نظر آتے ہیں۔ لیکن اگر کوئی بات ان کو غصہ دلانے والی پیش آجاۓ تو اچانک وہ اپنا انسانی لبادہ اتار پھینکتے ہیں۔ اس وقت معلوم ہوتا ہے کہ وہ دراصل حیوان تھے۔ البتہ انھوں نے اوپر سے انسانی مکھیوٹا پہن رکھا تھا۔ خلاف مزاج بات پیش آتے ہی وہ اپنی اصلی صورت میں ظاہر ہو گئے لا شعور (آدمی کی اصل ہستی) کو سمجھنے کا بہترین نفسیاتی وقت وہ ہوتا ہے جب کہ وہ ذہنی اختلال میں مبتلا ہو۔ اسی طرح شکایت اور اختلاف کا وقت آدمی کے دین و اخلاق کا امتحان ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ آدمی جب کسی پر وقت نا تمام میں آتا ہے، ہر طرح کی باتیں۔ دعا یا کرتب ایک شخص حکومت کے کسی شعبہ میں جگہ حاصل کرنے کے لئے ملازمت کا فارم بھرے تو اس کا نام درخواست ہے۔ اس کے برعکس اگر وہ ایسا کرے کہ اپنے گھر میں سر نیچے اور پاؤں اوپر کر کے کھڑا ہو جائے اور یہ یقین کرے کہ اسی حال میں ستاس دن رہوں گا تو مجھ کو ملازمت مل جائے گی، تو یہ کرتب ہے۔ درخواست دینا ایک بالکل معقول بات ہے۔ مگر کرتب اتنی ہی بے معنی چیز ہے۔ اسی طرح خدا سے مانگنے میں بھی ایک دعا کا طریقہ ہے اور دوسرا کرتب کا طریقہ۔ دعا یہ ہے کہ آدمی اپنے حاجات و مسائل میں خدا کی طرف رجوع کرے، اس سے روئے گڑگڑائے، اس سے حاجت روائی کی درخواست کرے، یہ عین مطلوب ہے۔ حدیث میں ہے کہ جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے تو اس کو بھی خدا سے مانگو۔ مگر کچھ لوگوں نے اسی کے ساتھ کرتب کے کچھ طریقے نکال رکھے ہیں ـــــ فلاں لفظ اتنی بار دہرادو تو بلا ٹل جائے گی، فلاں وقت میں فلاں عمل کر لو تو حاجات پوری ہو جائیں گی۔ فلاں نقش کا غذ پر لکھ کر اتنے دن تک باندھے رہو تو دشمن ختم ہو جائے گا وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب کرتب ہیں۔ دعا (اللہ کو پکارنا) جتنا با معنی ہے، کرتب (عملیات) کے طریقے اتنے ہی بے معنی ہیں۔ پہلا عین اسلامی ہے اور دوسرا گناہ اور جہالت ہے۔ ٹھیک اسی وقت نا کام ہو جاتا ہے جب کہ اس کو سب سے زیادہ کامیابی کا ثبوت دنیا چاہئے ۔ اور دوسرا قطعا غیر اسلامی -

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page