Urdu book · زلزلۂ قیامت

زلزلہ

Urdu book, p. 36

By Maulana Wahiduddin Khan

قبل اس کے کہ خدا کا سیلاب پھٹ پڑے اعظم گڑھ شہر کے کنارے بہت بڑا بند ہے جو 1878ء کے سیلاب کے بعد بنایا گیا تھا۔ 1955ء کا سیلاب آیا تو اس نے تمام تاریخی ریکارڈ توڑ دیئے۔ شہر کی قسمت تمام تر اسی بندھا پر معلق ہوگئی۔ بندھ کے ایک طرف شہر تھا۔ دوسری طرف حد نظر تک پھیلا ہوا پانی جس کی بلندی چھتوں کے برابر ہورہی تھی۔ بالا خراہ ایک مقام پر پانی نے بندھ کو توڑنا شروع کیا۔ کلکٹر نے سیکڑوں آدمی متعین کر دیئے جو رات دن بندھ کی مرمت میں لگے ہوئے تھے۔ ہر جگہ اسی کا چرچا تھا۔ ہر شخص کی زبان پر اسی کا تذکرہ تھا۔ یہاں تک کہ 26 جولائی 1955ء کی شام آگئی۔ رات کے درمیانی حصہ میں جب کہ سناٹا چھا چکا تھا ۔ ایک آواز از فضا کو چیرتی ہوئی پورے شہر میں گونج گئی۔ یہ ایک اعلان تھا جو کلکٹر کی طرف سے لاڈڈ اسپیکر کے ذریعہ کیا جا رہا تھا : «لال ڈگی کے بندھ کی مرمت کی تمام کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔ بندھ ابھی ٹوٹنا چاہتا ہے۔ آپ لوگ اپنی جانوں کو بچانے کے لئے اونچی جگہوں پر چلے جائیں » رات کے ایک بجے کا وقت تھا۔ سارا شہر جاگ اٹھا۔ عجب سنی پھیل گئی ۔ ایسا محسوس ہوا جیسے اسرائیل نے قیامت کا صور پھونک دیا ہو۔ لوگ اپنے گھروں سے نکل کر بندھ کی طرف دوڑ پڑے تاکہ اس کو بچانے کی آخری کوشش کر سکیں۔ سیکڑوں آدمیوں نے پھاڑا اور بوریہ سنبھال لیا اور اس مقام پر مٹی ڈالنی شروع کی جہاں بندھ پھٹ رہا تھا ۔ پٹرول میکس کی روشنی میں ساری رات کام ہوتا رہا۔ اگلے دن دوپہر تک مٹی ڈالی جاتی رہی۔ مگر ساری کوششیں بے کار ثابت ہوئیں۔ انجینئر نے اعلان کر دیا کہ بندھ قابو سے باہر ہو چکا ہے۔ ہماری کوئی بھی کوشش اس کو روک نہیں سکتی۔ دن کے بارہ بجے بندھ ٹوٹ گیا۔ پانی کا زبردست ریلا شہر کی طرف بہہ پڑا ۔ لوگ اپنے ٹھکانوں کی طرف بھاگ رہے تھے اور پانی ان کے پیچھے سڑکوں اور گلیوں میں اس طرح دوڑ رہا تھا جیسے دہ ان کا تعاقب کر رہا ہو۔ زندگی کے تمام مسا ئل سمٹ کر سیلاب کے گرد جمع ہوگئے ۔ یہ سیلاب جب مجھے یاد آتا ہے تو اس میں مجھے قیامت کے عظیم تر سیلاب کا نقشہ دکھائی دینے لگتا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ قیامت بھی اسی طرح کا ایک بہت بڑا سیلاب ہے۔ وہ جب آئے گا تو ہمارے تمام حفاظتی بند ٹوٹ جائیں گے ۔ وہ اس طرح ہم کو گھیر لے گا کہ پہاڑ کی چوٹیاں بھی اس کے مقابلہ میں پناہ دینے سے عاجز رہیں گی ۔ آج کا سب سے بڑا کام یہ ہے کہ قیامت کے اس آنے والے سیلاب سے دنیا کو آگاہ کیا جائے۔ جس طرح ضلع کلکٹر نے لاڈڈ اسپیکر کے ذریعہ اعظم گڑھ کے شہریوں کے سامنے سیلاب کا اعلان کرایا ۔ اسی طرح ہم کو بھی "لاڈڈ اسپیکر " فراہم کرنا ہے تاکہ سیلاب کے آنے سے پہلے اس کی بابت لوگوں کو باخبر کر سکیں ۔ خدا کے پیغمبر اسی آنے والے " سیلاب " سے لوگوں کو باخبر کرنے کے لئے آتے تھے۔ ختم نبوت کے بعد امت مسلمہ اسی کام پر مامور ہے۔ اس کی لازمی ذمہ داری ہے کہ تمام قوموں کو اس سے خبر دار کرے۔ قبل اس کے کہ خدا کا وہ سیلاب پھٹ پڑے اور پھر نہ کسی کے لئے خبر دار کرنے کا موقع ہو اور نہ کسی کو خبر دار ہونے کا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page