Urdu book · زلزلۂ قیامت

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

Urdu book, p. 3

By Maulana Wahiduddin Khan

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ "قرآن کو پڑھ کر بڑا ڈر لگنے لگتا ہے ،، شری تیج پال سنگھ نے کہا " اس میں تو بس آگ کی اور جہنم کی باتیں ہیں ،، یہ دہلی کے ایک تعلیم یافتہ غیر مسلم کے تاثرات ہیں۔ انھوں نے قرآن کا ہندی ترجمہ پڑھا تھا اور اس کے بعد دسمبر ۱۹۷۷ء میں راقم الحروف سے مندرجہ بالا الفاظ کہے ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ قرآن میں سب سے زیادہ جس چیز کا بیان ہے ، وہ آخرت کا عذاب ہی ہے ۔ اسی کو قرآن کا مقصد نزول بتایا گیا ہے : وَكَذٰلِكَ اَوْحَيْنَا اِلَيْكَ قُرْاٰنًا عَرَبِيًّا لِّتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰى وَمَنْ حَوْلَهَا وَتُنْذِرَ يَوْمَ الْجَمْعِ لَا رَيْبَ فِيْهِ - فَرِيْقٌ فِي الْجَنَّةِ وَفَرِيْقٌ فِي السَّعِيْرِ (شوریٰ ۷) اور ہم نے عربی قرآن تمھارے اوپر اتارا تاکہ تو اس بڑی بستی اور اس کے آس پاس والوں کو خبردار کر دے اور جمع ہونے کے دن سے ڈرا دے جس میں کوئی شک نہیں۔ ایک گروہ جنت میں ہوگا اور ایک گروہ دوزخ میں۔ بار بار مختلف طریقوں سے انسان کو متوجہ کیا گیا ہے کہ تمھارا اصل مسئلہ آخرت کا مسئلہ ہے۔ اس لئے وہاں کی پکڑ سے بچنے کی کوشش کرو۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ عَلَيْهَا مَلَائِكَةٌ غِلَاظٌ شِدَاد (انعام-۶) اے ایمان والو اپنے کو اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن ہیں آدمی اور پتھر۔ اس پر سخت دل اور زور آور فرشتے مقرر ہیں۔ تمام انبیاء اسی لئے آئے کہ وہ لوگوں کو آنے والے دن کی چیتاونی دے دیں (انعام ۱۳۰)۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جس دعوتِ رسالت کا حکم دیا گیا، وہ قرآن کے الفاظ میں یہ تھی : وَاَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الْاٰزِفَةِ اِذِ الْقُلُوْبُ لَدَى الْحَنَاجِرِ كٰظِمِيْنَ (مومن - ۱۸) اور اس آنے والے دن سے ان کو ڈرا جب کہ کلیجے منھ کو آجائیں گے ، غم سے بھرے ہوئے ۔ قریش نے مکی دور میں اپنے ایک ہوشیار سردار عتبہ بن ربیعہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا کہ وہ آپ سے گفتگو کر کے معلوم کرے کہ آپ کا پیغام کیا ہے۔ واپسی کے بعد عتبہ نے اپنے ساتھیوں کو جو رپورٹ دی اس کے الفاظ یہ تھے : ما فهمت شيئا مما قال غير انه انذركم صاعقة مثل صاعقة عاد و ثمود اسی احساس کے تحت یہ کتاب شائع کی جا رہی ہے انھوں نے جو کچھ کہا اس سے میں اس کے سوا اور کچھ نہیں سمجھا کہ وہ تم لوگوں کو عاد و ثمود جیسے عذاب سے ڈراتے ہیں اس کے تمام مضامین کا موضوع آخرت ہے تاہم وہ معروف اسی احساس کے تحت یہ کتابچہ شائع کیا جا رہا ہے۔ اس کے تمام مضامین کا موضوع آخرت ہے۔ تاہم وہ معروف تصنیفی ترتیب کے مطابق تیار نہیں کیا گیا ہے۔ اس کا انداز ترتیب شذرات یا خواطر کا سا ہے۔ اس کو جو چیز ایک مسلسل کتاب بناتی ہے وہ یہ ہے کہ اس کے ہر صفحہ کا موضوع آخرت کی چتاونی ہے۔ مختلف پہلوؤں سے اس سنگین مسئلہ کو ابھارنے کی کوشش کی گئی ہے جو موت کے بعد آدمی کے سامنے آنے والا ہے۔ وحید الدین ، ۱۵ مئی ۱۹۷۸ء ہے کہ اس کے بعد کسی اور نبی کی ضرورت باقی نہیں رہی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page