یہ ایک خدائی منصوبہ تھا
Urdu book, p. 40
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ ایک خدائی منصوبہ تھا تاکہ ظالموں اور متکبروں کا مجرم ہونا ثابت ہو جائے اور اللہ کے وفادار بندوں کو خدائی گواہ بننے کا اعزاز حاصل ہو ہجرت کے تیسرے سال احد کا معرکہ پیش آیا۔ اس جنگ میں ابتدا مسلمانوں کو کامیابی ہوئی، مگر بعد کو اہل ایمان کی ایک اتفاقی غلطی سے فائدہ اٹھا کر خدا کے دشمن ان کے اوپر ٹوٹ پڑے اور سہیں نقصان پہنچایا۔ اس واقعہ سے اہل ایمان کے درمیان طرح طرح کے سوالات پیدا ہونے لگے۔ انھوں نے کہا: ہم حق پر ہیں پھر یہ مصیبت کہاں سے آگئی (آل عمران - ۱۶۵) جواب ملاکہ یہ وقتی نقصانات ہیں، ان کی پروا مت کرو۔ خدا کی نصرت حق پرستوں کے ساتھ ہے اور آخری کامیابی بہ حال انھیں کو حاصل ہوگی۔ " یہ اس واسطے ہوا تاکہ اللہ ایمان والوں کو جان لے اور تم کو ظالموں کے اوپر گواہ بنائے ۔" (آل عمران ۔ ۱۴۰) گویا احد کی جنگ میں مسلمانوں سے جو ایک اتفاقی غلطی ہوئی اور جس کی وجہ سے خدا کے دشمنوں کو موقع ملا کہ وہ بے گناہ مسلمانوں کے اوپر پیچھے سے چڑھ آئیں ، وہ بھی خدائی منصوبہ کا ایک جزو تھا۔ اس طرح خدا ظالموں اور سرکشوں کو ننگا کرنا چاہتا تھا، ان کے ہاتھوں اہلِ ایمان کو زخمی کر کے ان کی درندگی اور سرکشی کا ثبوت فراہم کرنا مقصود تھا۔ اللہ چاہتا تھا کہ اس واقعہ کے ذریعہ ایک طرف ظالموں اور متکبروں کو مجرمین کے کٹہرے میں کھڑا کر دے، دوسری طرف اپنے وفادار بندوں کو ان کے مقابلہ میں عدالت الہی کا گواہ بننے کا اعزاز عطا کرے۔ یہ ایک خدائی معاملہ نہ تھا کہ محض ایک انسانی واقعہ (۲۰ جولائی ۷۷ء) انسان صرف اچھا یا برا کریڈٹ لے رہا ہے ایک سب سے بڑی بات جس کو انسان سب سے زیادہ بھولار ہتا ہے، یہ کہ اس دنیا میں کسی انسان کو کوئی ذاتی طاقت حاصل نہیں۔ کوئی شخص نہ کسی کو کچھ دیتا، نہ کوئی شخص کسی سے کچھ چھینتا۔ ہر واقعہ جو اس لیے ہے۔ ارادہ کے سوا انسان کے بس میں اور کچھ نہیں۔ واقعات اس لئے اس کے سامنے لائے جائے ہیں کہ اس کی جانچ ہو، تاکہ اس کا خدا یہ دیکھے کہ اس کا بندہ مختلف رویوں میں سے کس رویہ کا اپنے لئے انتخاب زمین پر ہونا ہے وہ خدا کی اجازت سے ہوتا ہے۔ انسان کی ساری حیثیت یہ ہے کہ وہ اس دنیا میں امتحان کے کر رہا ہے۔ واقعات کا اہتمام مالک کائنات کی طرف سے ہوتا ہے۔ انسان تو صرف اچھا یا برا کریڈٹ لے رہا ہے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader