Urdu book · زلزلۂ قیامت

خدا پرست

Urdu book, p. 39

By Maulana Wahiduddin Khan

زبان سے نامناسب الفاظ نکل جائیں۔ مگر مومن کی شان یہ ہے کہ ایسے واقعہ کے تھوڑی دیر بعد ہی اس کو اپنی غلطی کا احساس ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے کئے پر شرمندہ ہوتا ہے۔ اپنے رویے کی اصلاح کا عزم کرتا ہے۔ اس کی ذات سے کسی کو نقصان پہنچ گیا ہے تو اس کی تلافی کرتا ہے، جس کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کیا تھا اس سے معافی مانگتا ہے۔ جب وہ ایسا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے یہاں نہ صرف اس کا جرم بخش دیا جاتا ہے بلکہ خود جرم کو بھی نیکی کے خانہ میں لکھ دیا جاتا ہے کیونکہ وہ اس کیلئے ایک زیادہ بڑی نیکی کے کرنے کا سبب بنا۔ مگر جو لوگ اختلاف کو عناد اور کینہ کے مقام تک پہنچا دیں۔ جو اپنی ”خدائی“ تسلیم نہ کرنے والے شخص سے ہمیشہ کے لئے بدگمان ہو جائیں اور جنہیں یہ توفیق نہ ملے کہ اس سے معافی مانگ کر اس کی طرف سے اپنے دل کو صاف کر لیں، وہ بدترین مجرم ہیں، وہ کسی حال میں خدا کی پکڑ سے بچ نہیں سکتے خواہ دنیا میں اپنے اتفاقی حالات کی وجہ سے وہ اپنے دل کی گندگی کو چھپانے میں کامیاب ہو جائیں۔ خدا پرست ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو خدا کے آگے جھکا دے اس کے مقابلہ میں اپنی بڑائی کے تمام احساسات کو بالکل ختم کر دے یہ حساس اگرچہ خدا کے مقابلہ میں مطلوب ہے مگر اس کا امتحان بندوں کے معاملات ہی میں ہوتا ہے۔ انسانوں کے ساتھ تعلقات میں جو شخص یہ ثابت کرے کہ اسکے دل میں جھکاؤ ہے۔ وہی دراصل خدا کے آگے جھکا ہوا ہے، اسکے برعکس انسانوں سے ٹھیس پہنچنے کے وقت جو شخص ظالم اور متکبر بن جائے، وہ خدا کے مقابلہ میں بھی ایسا ہی ہے خواہ وہ فرائض و نوافل میں کتنا ہی تواضع کا اظہار کرتا ہو۔ حدیث میں ہے کہ آدمی کبھی ایک بھوکے اور پیاسے کو نظر انداز کرتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ میں ایک معمولی آدمی کو نظر انداز کر رہا ہوں۔ حالانکہ وہ رب العالمین کو نظر انداز کر رہا ہوتا ہے۔ اسی طرح آدمی کبھی ایک پیغام کو نظر انداز کرتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ میں ایک معمولی آدمی کی بات کو نظر انداز کر رہا ہوں۔ حالاں کہ وہ رب العالمین کی بات کو نظر انداز کر رہا ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کی نفسیات دنیا میں تو یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے کو ہوشیار اور کامیاب سمجھتے ہیں۔ اپنے عمل پر شرمندہ ہونے کے بجائے فاتحانہ انداز سے اس کا ذکر کرتے ہیں۔ مگر جب وہ مرنے کے بعد آخرت کے عالم میں کھڑے کئے جائیں گے تو انھیں دکھائی دے گا کہ ان سے زیادہ نادان اور کوئی نہ تھا۔ ان کو ایسا محسوس ہو گا گویا زمین و آسمان نے ان کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ اس وقت وہ جانیں گے کہ دنیا میں اپنی جس زندگی پر وہ نازاں تھے، خدا کی نظر میں اس کی کوئی قیمت نہ تھی۔ یہ صرف اللہ تعالیٰ کی سنتِ امتحان تھی جس نے ان کو زمین میں زندگی کا موقع دے رکھا تھا۔ امتحان کی مدت ختم ہونے کے بعد ان کو اپنا وجود اس سے بھی زیادہ بے حقیقت نظر آئے گا جتنا کہ مکھی اور مچھر۔ کے لیے ایک ہی راستہ ہے کہ وہ اپنی تمام تر صلاحیتیں اور توانائیاں اس مقصد کے لیے وقف کر دیں کہ وہ اپنے ملک کو ایک جدید، ترقی یافتہ اور خوشحال ریاست بنائیں۔ اس کے لیے ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنا ہوگا اور ہر قسم کے تعصبات سے بالاتر ہو کر صرف اور صرف پاکستان کی ترقی کے لیے کام کرنا ہوگا۔ ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ قومیں صرف نعروں سے نہیں بلکہ عمل سے بنتی ہیں۔ اگر ہم آج محنت کریں گے تو کل ہماری نسلیں ایک بہتر اور روشن مستقبل کی امید رکھ سکیں گی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page