Urdu book · زلزلۂ قیامت

ہر آدمی ایک فیصلہ کن انجام کی طرف بڑھ رہا ہے

Urdu book, p. 42

By Maulana Wahiduddin Khan

ہر آدمی ایک فیصلہ کن انجام کی طرف بڑھ رہا ہے ۔ ہندوستان کی آزادی سے بارہ سال پہلے ۱۹۳۵ء میں جب آنجہانی پنڈت جواہر لال نہرو نے انگریزی جیل میں اپنی آپ بیتی مکمل کی تو اس کے آخر میں انھوں نے لکھا : " میں محسوس کرتا ہوں کہ میری زندگی کا ایک باب ختم ہو گیا اور اب اس کا دوسرا باب شروع ہوگا۔ اس میں کیا ہوگا ، اس کے متعلق میں کوئی قیاس نہیں کر سکتا کتاب زندگی کے اگلے ورق سر مہر ہیں ۔“ آٹو بیا گرافی (لندن ۱۹۵۳) صفحہ ، ۵۹ نہرو کی زندگی کے اگلے اوراق کھلے تو معلوم ہوا کہ وہ دنیا کے تیسرے سب سے بڑے ملک کے وزیرِ اعظم ہیں۔ انسانی آبادی کے چھٹے حصہ پر انھوں نے اپنی ساری عمر بلا شرکت حکومت کی۔ ان کا اقتدار اتنا مکمل تھا کہ اپنی وزارتی کابینہ کے طاقت ور ترین شخص سردار پٹیل سے جب ان کے اختلافات ہوئے تو ہندوستان کے اس مردِ آہن نے بالآخر نہرو کے آگے ہتھیار ڈال دیئے اور لکھ کر دے دیا کہ اختلافی معاملات میں عملاً میں اسی رائے کا پابند رہوں گا جو آپ کی رائے ہوگی ۔ اس قسم کے کامل اقتدار کے باوجود پنڈت نہرو اپنی آخری عمر میں یہ سوچنے پر مجبور ہوئے کہ شاید حقیقت کی کچھ اور منزلیں ہیں جہاں تک ان کی رسائی نہ ہوسکی۔ جنوری ص ۱۹۴۷ میں مستشرقین کی بین الاقوامی کانفرنس نئی دہلی میں ہوئی تھی۔ اس میں ہندوستان کے علاوہ دوسرے ملکوں کے بارہ سو ڈیلی گیٹ شریک ہوئے ۔ پنڈت نہرو نے اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے کہا : " میں ایک سیاست داں ہوں اور مجھے سوچنے کے لئے وقت کم ملتا ہے۔ پھر بھی بعض اوقات میں یہ سوچنے پر مجبور ہوتا ہوں کہ آخر یہ دنیا کیا ہے۔ کس لئے ہے۔ ہم کیا ہیں اور کیا کر رہے ہیں۔ یہ میرا یقین ہے کہ کچھ طاقتیں ہیں جو ہماری تقدیر بناتی ہیں "۔ (نیشنل ہیرالڈ ۶ جنوری ۱۹۶۴) پنڈت نہرو کے انتقال کے بعد ایک مختصر وقفہ کو چھوڑ کر ہندوستان کا اقتدار دوبارہ ان کی صاحبزادی مسٹر اندر اگاندھی کے ہاتھ میں آیا اور گیارہ سال دو مہینے تک اتنی شان کے ساتھ انھوں نے حکومت کی کہ لوگ کہنے لگے کہ بیٹی باپ پر بھی بازی لے گئی ہے۔ مگر بالا آخر قدرت نے ان کی سیاسی کتاب کو بھی اس طرح سر پہر کر دیا کہ وہ بھی دوبارہ اسی سوال سے دوچار ہیں جس سے ان کا باپ چالیس سال پہلے دوچار تھا ۔ " زندگی کیا ہے اور بالآخر آدمی کا انجام کیا ہونے والا ہے " تاریخ کے اندر بے شمار سبق ہیں۔ ان میں سب سے اہم یہ ہے کہ ہر آدمی ایک ایسی منزل کی طرف بڑھ رہا ہے جہاں آدمی کی خوش فہمیاں اس کا ساتھ چھوڑ دیں گی۔ کوئی اقتدار کسی کے کام نہ آئے گا۔ وہاں فیصلہ کا سارا اختیار دوسری طاقت کے ہاتھ میں ہو گا۔ دنیا میں انساں کا انجام آخرت کے اسی انجام کا ابتدائی نمونہ ہے۔ ہر شخص جس کو زندگی کے اسٹیج پر اپنا کردار ادا کرنے کا موقع ملتا ہے ، وہ انتہائی نادانی کے ساتھ اسی عمل کو دہراتا ہے جو پچھلے تجربہ میں مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page