Urdu book · زلزلۂ قیامت

ہر آدمی ایک فیصلہ کن انجام کی طرف بڑھ رہا ہے

Urdu book, p. 43

By Maulana Wahiduddin Khan

ہوں گے جس کی وجہ سے ان کو یہ مقام ملا۔ نگر ان کی عبادت اور شب گزاری میں کوئی غیر معمولی چیز ان کو دکھائی نہ دی۔ امام نسائی نے انس بن مالک سے نقل کیا ہے۔ ایک بار آخر انھوں نے خود ہی ان سے پوچھا کہ بھائی، آپ کون سا تین دن تک مسلسل یہ ہوتا رہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ ایسا عمل کرتے ہیں جس کی بنا پر ہم نے رسول اللہ کی زبان وسلم اپنی مجلس میں یہ فرماتے کہ اب تمھارے سامنے ایک ایسا سے آپ کے بارے میں یہ عظیم بشارت سنی ہے۔ انھوں نے شخص آنے والا ہے جو اہل جنت میں سے ہے۔ ہر بار یہ آنے کہا، میری عبادت کا حال تو وہی ہے جو آپ نے دیکھا والے انصار میں سے ایک شخص ہوتے، یہ دیکھ کر عبد اللہ البتہ ایک بات شاید اس کا سبب بنی ہو، اور وہ یہ کہ: بن عمرو بن عاص کو جستجو ہوئی کہ آخر وہ کون سا عمل کرتے لا اجد فی نفسی غلا لاحد من المسلمين ہیں جس کی بنا پر آپ نے ان کے بارے میں بار بار یہ ولا احد کا علی خیر اعطاء اللہ تعالی یہ بشارت سنائی ہے۔ چنانچہ وہ ایک بہانہ کر کے گئے میں اپنے دل میں کسی مسلمان کے خلاف کوئی کینہ نہیں اور تین روز تک مسلسل ان کے یہاں رات گزارتے رہے، رکھتا۔ اور نہ کسی ایسی بھلائی پر جو اللہ نے اسے دی ہو، ان کا خیال تھا کہ وہ شاید کوئی خاص عبادت کرتے اس سے حسد کرتا ہوں۔ زندگی کیا ہے، موت کی طرف ایک سفر۔ ہر شخص دوسروں کو اپنے سامنے مرتے ہوئے دیکھتا ہے۔ مگر خود اس طرح زندگی گزارتا ہے گویا اس کو کبھی موت نہیں آئے گی ۔ کوئی رصد گاہ اگر کسی دن یہ دریافت کرے کہ زمین کی جذب و کشش کی قوت ختم ہو گئی ہے تو اگلے دن یہ دریافت تمام اخباروں کی شاہ سرخی ہوگی۔ کیوں کہ اس قسم کی خیز زمین کے لئے موت کے سفر کے ہم معنی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ زمین کا کرہ چھہ ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سورج کی طرف کھینچنا شروع ہو جائے اور چند ہفتوں کے اندر اپنے سے بارہ لاکھ گنا بڑے سورج کے الاد میں اس طرح جاگرے جیسے دنیا کے سب سے بڑے آتش فشاں کے اندر کوئی ایک تنکا۔ زمین کے لئے موت کے سفر کی خبر کسی دن اخبار میں چھپ جائے تو ساری دنیا میں کہرام مچ جائے گا۔ ہم میں سے ہر شخص اس قسم کے ہولناک تر سفر میں ہے۔ مگر کوئی نہیں جو اس سے چوکنا ہو اور اپنی زندگی کے آئندہ مراحل میں بربادی سے بچنے کی فکر کرے ــــ سب سے بڑا مسئلہ موت کا مسئلہ ہے۔ مگر لوگ زندگی کے مسائل میں اتنا الجھے ہوئے ہیں کہ کسی کو موت کے مسئلہ پر دھیان دینے کی فرصت نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page