ابولہب کو یہ بات غیر اہم نظر آئی
Urdu book, p. 48
By Maulana Wahiduddin Khan
ابولہب کو یہ بات غیر اہم نظر آئی یہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو جب نبوت ملی اور خدا کی طرف سے حکم ہوا کہ لوگوں کے درمیان حقیقت کا اعلان کرو تو آپ صفا کی پہاڑی پر چڑھے ، اس زمانہ میں کسی بڑے خطرے کے اعلان کے لئے مکہ میں اسی بلند مقام کو استعمال کیا جاتا تھا۔ آپ نے پکار کر لوگوں کو جمع کیا۔ جب لوگ جمع ہو گئے تو آپ نے ایک مختصر تقریر کی جس کا خلاصہ یہ تھا : " لوگو آگاہ ہو جاؤ، جس طرح تم سوتے ہو، اسی طرح تم مرو گے اور جس طرح تم جاگتے ہو اسی طرح دوبارہ زندہ کئے دین کو جب دنیوی سانچہ میں ڈھال کر پیش کیا جائے تو وہ بہت جلد لوگوں میں مقبول ہو جاتا ہے۔ دین آخرت طلبی کا نام ھے۔ مہاتما گاندھی بھی سوشلزم کو مانتے تھے، اور کمیونسٹ بھی۔ دونوں میں فرق یہ تھا کہ گاندھی جی اختیاری سوشلزم کے قائل تھے، اور کمیونسٹ جبری۔ جاؤ گے ، اس کے بعد یا ہمیشہ کے لئے جنت ہے یا ہمیشہ کے لئے جہنم“ یہ آخرت کی حقیقت کا اعلان تھا جو دنیا پرست لوگوں کو سنایا جا رہا تھا۔ مگر آپ کے چچا ابولہب کی دنیوی فکر کے لئے یہ پیغام آخرت اتنا غیر مانوس ثابت ہوا کہ وہ فوراً مجلس سے اٹھ گیا اور چلا کر کہا: تبالك سائر اليوم الھذا جمعتنا تمہارا برا ہو۔ کیا تم نے یہی بات سنانے کے لئے ہم کو جمع کیا تھا۔ مسلمانوں کے اندر یہ بہت بڑی سوکھیت ہے۔ کمیونسٹوں کا سوشلزم عوام میں پھیل گیا۔ جب کہ گاندھی جی کے سوشلزم کو صرف چند ہی لوگ قبول کر سکے۔ وجہ بالکل سادہ ہے: کمیونسٹوں کا نظریہ عوام کی فکری سطح سے قریب تھا۔ اس کے برعکس گاندھی جی کا نظریہ، نسبتاً زیادہ بہتر ہونے کے باوجود، عوام کے لئے ناقابل فہم تھا۔ اس کو صرف وہی لوگ سمجھ سکتے تھے جو سماجی مسائل پر زیادہ گہرائی کے ساتھ سوچتے ہوں۔ یہی صورت حال مذہب کے ساتھ بھی پیش آئی ہے کوئی مذہبی تحریک عوام میں مقبول ہو رہی ہو تو اس کا لازمی مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ صداقت پر مبنی ہے۔ بالکل ان

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader