ابولہب کو یہ بات غیر اہم نظر آئی
Urdu book, p. 49
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے کہ اس کی وجہ یہ ہو کہ وہ عوام کی فکری سطح سے قریب ہے۔ رمضان کے مہینے میں ان دکانوں پر زیادہ بھیڑ ہوتی ہے جو سحری اور افطار کے لذیز کھانے فروخت کرتی ہوں۔ اس کے برعکس جو شخص روزہ کا فلسفہ بیان کر رہا ہو، اس کے حلقہ میں بہت کم آدمی دکھائی دیں گے۔ کیوں ۔ اس لئے کہ لذید کھانے کی طلب ہر ایک میں ہوتی ہے ۔ جب کہ فلسفیانہ غور و فکر سے لوگوں کے سر میں درد ہونے لگتا ہے۔ جو مذہب ”زردہ اور بریانی“ میں ثواب کا راز بتائے، نہ بہت جلد لوگوں کی حمایت حاصل کرلے گا۔ کیونکہ مذہب کی یہ قسم عوام کی فکری سطح سے انتہائی قریب ہے۔ اس کو اختیار کرنے کے لئے ان کو اپنی زندگی کا ڈھانچہ توڑنے کی ضرورت نہیں۔ جو مذہب کشف و کرامت کی داستانیں اپنے ساتھ لئے ہوئے ہو، عوام اس کی طرف دوڑ پڑیں گے کیونکہ عجبہ پسندی ساری دنیا میں سب سے زیادہ نام اور زیا صفت ہے۔ اسی طرح جو لوگ سیاسی اصطلاحوں میں مذہب کو بیان کریں یا جلسوں اور نعروں خدا لانہ مہیا تقسیم کرتے ہوں وہ بہت آسانی سے لوگوں کی توجہ اپنی طرف کھینچ لیں گے۔ کیوں کہ یہ سب وہی چیزیں ہیں جن سے لوگ پہلے ہی سے مانوس تھے۔ دین کی اصل آخرت ہے۔ دینی زندگی کا مطلب ہے ایسی زندگی جس میں ساری توجہ آخرت کی کامیابی اور ناکامی کی طرف لگی ہوئی ہو۔ مگر لوگ ہر زمانہ میں دنیا دارانہ مشاغل کی سطح پر ہوتے ہیں۔ اگر دین کو ان کی دنیوی زندگی کے ضمیمہ کے طور پر پیش کیا جائے تو اس کو قبول کرنے میں نہیں کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی۔ ایسی صورت میں دین ان کو ٹھیک اسی سطح پر مل رہا ہوتا ہے جس سطح پر وہ خود پہلے سے ہیں۔ اس کے برعکس جب دین کو آخرت طلبی کے روپ میں پیش کیا جائے جو اس کی حقیقی صورت ہے تو وہ لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتا۔ لوگ اس کو اپنی فکری سطح سے ہٹا ہوا پاتے ہیں، اس لئے اسے رد کر دیتے ہیں۔ قدیم مکہ میں جن لوگوں نے نماز کا مطلب یہ بتایا کہ بیت اللہ میں جمع ہو کر تالی پیٹیں اور سیٹی بجائیں (انفال ۔ ۳۵) ان کو بڑی مقبولیت حاصل کرنے میں دیر نہیں لگی۔ جنھوں نے خدا پرستی کا کمال یہ بتایا کہ حاجیوں کو پانی پلایا جائے اور مسجد حرام کی خدمت کی جائے (توبہ۔ ۱۹) ان کو بھی بہت جلد عوام الناس کی تائید حاصل ہو گئی کیونکہ یہ باتیں ان کی فکری سطح سے قریب تھیں۔ وہ اپنے مقررہ دنیوی ڈھانچہ کو توڑے بغیر اس مذہب کو اپنی زندگی میں شامل کر سکتے تھے۔ اسی طرح جن لوگوں نے مذہب کا خلاصہ یہ بنایا کہ اخبار در میان (نہ رہگیوں) کا دامن تھام لو (توبہ ۔ ۳۱) وہ بھی عوام میں خوب مقبول ہوئے، کیونکہ ان کا مذہب لوگوں کی دنیا دارانہ زندگی سے کوئی ٹکراؤ پیدا نہیں کرتا تھا۔ اس طرح وہ اپنے محبوب دنیوی مشاغل میں مصروف رہتے ہوئے یہ اطمینان کر سکتے تھے کہ انھوں نے اپنی نجات اور کامیابی کا یقینی انتظام کر لیا ہے۔ مگر مذہب کی دعوت جب پیغمبر اسلام کی زبان سے بلند ہوئی تو بالکل مختلف صورت حال پیش آئی۔ یہاں جو مذہب پیش کیا جا رہا تھا، وہ لوگوں کی دنیا پرستانہ زندگی کے سانچہ میں نہ تھا، بلکہ اس کو تو ہر جگہ اپنی جگہ بنانا چاہتا تھا۔ آپ کا مذہب مکہ والوں کو آخرت کی طرف دوڑنے کا تقاضا کر رہا تھا نہ کہ دنیا کی طرف۔ اس لئے بالکل فطری تھا کہ طبیعتیں اس اپیل سے، لوگ اس کا انتشار استفسار کرنے لگیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader