دو قسّم کے لوگ
Urdu book, p. 53
By Maulana Wahiduddin Khan
دو قسّم کے لوگ کہ وہاں وہ اپنی دنیوی سرگرمیوں کا بھر پور انجام پائیں گے: زرخیز زمین میں کھیتی کرنے والے کے حصہ میں لہلہاتی ہوئی فصل آتی ہے۔ اس کے برعکس جو شخص پتھر کی چٹانوں میں دانے بکھیرے، وہ بالآخر فصل سے بھی محروم رہتا ہے اور خود اپنے بیج سے بھی۔ اسی طرح انسانی کوششوں کی بھی دو قسمیں ہیں۔ ایک وہ جب کہ آدمی حق کی آواز پر دھیان نہ دے اور اپنے وقت اور قوت کو ایسی سرگرمیوں میں ضائع کردے جن کی کوئی قیمت آئندہ آنے والی حقیقی دنیا (آخرت) کے اعتبار سے نہ ہو۔ ایسا شخص اپنی زندگی کے ابدی مرحلہ میں اس حال میں داخل ہوگا کہ دنیا میں شان دار زندگی گزارنے کے باوجود آخرت میں اس کے لئے کچھ نہ ہوگا۔ اس کے برعکس معاملہ ان لوگوں کا ہے، جنھوں نے اصل معاملہ کو سمجھا اور اپنے آپ کو نتیجہ خیز کاموں میں مشغول کیا۔ وہ سفر حیات کی آخری منزل (آخرت) میں اس حال میں داخل ہوں گے کیا ہم تم کو بتائیں کہ وہ کون لوگ ہیں جن کا کیا ہوا سب اکارت چلا گیا۔ وہ جن کی کوششیں دنیا کی زندگی میں بھٹکتی رہیں اور وہ سمجھتے رہے کہ وہ اپنا کام خوب بنا رہے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے رب کی نشانیوں اور اس سے ملنے کے منکر رہے۔ اس لئے ان کا سارا عمل ضائع ہو گیا۔ قیامت کے روز ہم ان کو کوئی وزن نہ دیں گے ۔ ان کا انجام دوزخ ہے بہ سبب اس کے کہ انھوں نے انکار کیا اور میری نشانیوں کو اور میرے پیغمبروں کا مذاق بنایا۔ البتہ جو لوگ ایمان لائے اور درست کام کئے ان کی میزبانی کے لئے جنت کے باغ ہوں گے ۔ وہاں وہ ہمیشہ رہیں گے اور کبھی وہاں سے جگہ بدلنا نہ چاہیں گے (کہف ، آخر) ایک شخص نے کاروبار شروع کیا اور زبر دست محنت کر کے اس میں کافی ترقی کی ۔ اس کے دوست نے اس کو عیب پر کار بھیجتے ہوئے لکھا : ” سلنٹ میڈرین کے نام جو قطب بینڈ رکی بلندیوں کو بھی پار کر سکتا ہے “ وہ لوگ اور بھی زیادہ خوش نصیب ہیں جو ایمان ن اسلام کی بلندیوں کو پار کریں ۔ آخرت کے دن خدا کے فرشتے ان کو مبارک باد دیتے ہوئے کہیں گے : پچھلی زندگی میں تم نے آج کے لئے عمل کیا تھا۔ اب اس کا بے حساب انعام لو اور خدا کی جنت میں ہمیشہ کے لئے داخل ہو جاو ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader