موت کے دوسری طرف جنت ہے یا جہنم
Urdu book, p. 54
By Maulana Wahiduddin Khan
موت کے دوسری طرف جنت ہے یا جہنم یہ ہے وہ سب سے بڑی بات ”حاجی حسن نے مجھ کو اسلام کے مختلف پہلوؤں سے آگاہ کیا، محمد علی نے کہا“ اس نے حیرت انگیز طور پر میرے نقطۂ نظر کو بدل دیا۔ میں نے طے کر لیا ہے کہ مذہب کے لئے زیادہ سے زیادہ وقت صرف کروں۔“ مگر افسوس کہ محمد علی یہ ارادہ پورا نہ کر سکا جس کو ہم جانیں اور یہ ہے وہ سب سے بڑی بات جو ہم دوسروں کو بتائیں ہیوی ویٹ باکسنگ کے سابق چیمپین محمد علی (۳۶) کو لیون اسپنیکس (۲۴) نے ۱۵ فروری ۷۸ء کو ہرا دیا۔ محمد علی کے لئے یہ بے حد غیر متوقع تھا۔ کیونکہ پچھلے ۷ سال کی مسلسل کامیابیوں نے محمد علی کے اندر اتنا زیادہ اعتماد پیدا کر دیا تھا کہ وہ کہنے لگے تھے: I am king of the world میں دنیا کا بادشاہ ہوں۔ تاہم یہ امکان ہے کہ یہ شکست محمد علی کی زندگی کے لئے ایک نیا موڑ پیدا کرنے کا باعث ہو۔ تین سال پہلے محمد علی نے یہ کہنا شروع کر دیا تھا کہ وہ کھیل کی دنیا سے ریٹائر ہو جائیں گے تاکہ ”اسلام کی خدمت کریں اور اپنی قوم کی تعلیمی اور اقتصادی ترقی کے لئے کام کریں“۔ جون ۷۵ء میں محمد علی کی ملاقات حاجی بی۔ کٹی حسن (کالی کٹ) سے ہوئی تھی۔ اس وقت وہ کوالالمپور میں تھے۔ حاجی حسن کی باتوں سے محمد علی بے حد متاثر ہوئے۔ مراسلے کے بعد محمد علی اپنے ارادے پر قائم نہ رہ سکے۔ انھوں نے کھیل کے میدان میں اپنی مشغولیت کو بدستور جاری رکھا۔ تاہم موجودہ شکست نے دوبارہ ان کے ذہن کو ماضی کی طرف موڑ دیا ہے۔ ۱۷ فروری کو لندن میں اخبار نویسوں سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ میں دوبارہ اسپینکس سے لڑوں گا اور چیمپین کا ٹائٹل اس سے چھینوں گا“ تاہم اگر میں ایسا نہ کر سکا تو میں سمجھوں گا کہ اب وقت آگیا ہے کہ میں اپنی زندگی کا رخ مذہب کی طرف موڑ دوں۔“ پھر میں اپنی زندگی کو خدا کی محبت اور مقدس قرآن کے لئے وقف کردوں گا۔ میں ہمہ وقتی طور پر مسلم مبلغ بن جاؤں گا۔ در حقیقت میں جو کچھ چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ میں لوگوں کو مسلمان بناؤں۔ آج جو لوگ میرے اس انٹرویو کو پڑھ رہے ہیں، ان میں سے ہر ایک پچاس برس بعد مر چکا ہوگا اور اس کے بعد یا تو جنت میں اس کا ٹھکانا ہوگا یا جہنم میں۔ میں چاہتا ہوں کہ ان کو جنت میں پہنچانے کی کوشش کروں (ٹائمس آف انڈیا ۱۸ فروری ۱۹۷۸)
اس کے بعد اس نے ایک اور خط لکھا جس میں اس نے اپنی غلطی کا اعتراف کیا اور معافی مانگی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader