اللہ نے ہم کو بھیجا ہے تاکہ ہم لوگوں کو اس کی طرف بلائیں
Urdu book, p. 59
By Maulana Wahiduddin Khan
اللہ نے ہم کو بھیجا ہے تاکہ ہم لوگوں کو اس کی طرف بلائیں اسلامی غلبہ سے پہلے عراق قدیم ساسانی سلطنت کا ایک حصہ تھا، قادسیہ میں سعد بن ابی وقاص کی سرکردگی میں لشکر اسلام عراق کی طرف بڑھا۔ دوسری طرف ساسانی فوج کا سردار رستم تھا۔ جنگ سے پہلے، مختلف اسلامی سفار رستم کے دربار میں بات چیت کے لئے گئے۔ انھیں میں سے ایک ربعی بن عامر بھی تھے۔ رستم نے ربعی بن عامر سے پوچھا: تم کو کیا چیز نے یہاں لے آئی ہے۔ انھوں نے جواب میں جو تقریر کی، اس کا ایک فقرہ یہ تھا: اللہ ابتعثنا لنخرج من شاء من عبادة العباد الى عبادة الله ومن ضيق الدنيا الى سعتها ومن جور الادیان الى عدل الاسلام فارسلنا بدینه الى خلقه لندعوهم اليه (ابن کثیر ۔ البدایہ والنہایہ ، جلد ، صفحہ ۳۸) اللہ نے ہم کو بھیجا ہے کہ جس کو وہ چاہے، بندوں کی عبادت سے نکال کر خدا کی عبادت کی طرف لے آئیں ۔ دنیا کی تنگی سے اس کی فراخی کی طرف اور مذاہب کے ظلم سے اسلام کے عدل کی طرف لے آئیں۔ پس اس نے ہم کو اپنے دین کے ساتھ اپنی مخلوق کی طرف بھیجا ہے تاکہ ہم لوگوں کو اس کی طرف بلائیں۔ ہم کسی بات کی گواہی دے رہے ہیں مغلوں کے مقابلہ میں جب مرہٹے اور سکھ اٹھے تو مسلمان ان کے خلاف بھڑک اٹھے۔ بدیس سے انگریز آکر ملک کے اوپر قابض ہوگئے تو ان کو ہٹانے کے لئے انھوں نے ساری دنیا میں ہنگامہ مچا دیا۔ کانگریس حکومت کے تحت ان کے ساتھ جبر و امتیاز کا سلوک ہوا تو اس کو انتخابی شکست دینے کے لئے ان کے درمیان زبردست طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔ یہ ہے مسلمانان ہند کی دوسوسالہ سیاست کا خلاصہ۔ اس پوری مدت میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ خوف خدا اور فکر آخرت کو دعوتی مشن بنانے پر ان کے درمیان آگ بھڑکی ہو، آنے والے یوم الحساب کے مسئلہ سے لوگوں کو آگاہ کرنے کے لئے وہ بے تابا نہ اٹھے کھڑے ہوئے ہوں۔ سیاسی مسائل اور اقتصادی مفادات کا معاملہ ہو تو فوراً اُن کے اندر عمل کی آگ بھڑک اٹھتی ہے۔ آخرت کے مفادات اور جنت اور جہنم کے مسائل اس سے کہیں زیادہ بڑے ہیں۔ مگر ان کی خاطر سرگرم ہونا وہ نہیں جانتے۔ مسلمان کا معاملہ عام قوموں سے مختلف ہے۔ وہ "شهد اعلاء الله في الارض" ہیں ۔ ان کو آخرت کے مسائل کی گواہی دینے پر مامور کیا گیا تھا۔ مگر وہ لوگوں کے سامنے دنیا کے مسائل کی گواہی دینے میں سارا زور دکھارہے ہیں۔ یہ الٹی گواہی نبی آخر الزماں کی امت کے لئے جرم کی حیثیت رکھتی ہے۔ اگر مسلمان اپنی اس روش سے باز نہ آئے تو اندیشہ ہے کہ وہ دنیا میں بھی رسوا ہوں گے اور آخرت میں بھی۔ اس قسم کی سرگرمیاں خدا کے غضب کو بھڑکانے والی ہیں نہ کہ اس کی رحمت و نصرت کو کھینچنے والی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader